Announcement!

Announcement! Welcome to IbneZia.com. This blog is not being updated frequently. Presently, I am focusing on freelance projects, like: translation, content-writing, editing and proofreading. See my Portfolio page for my work and contact details. Thank you. Sincerely, Ammar Zia

Monday, 14 December 2015

My Karachi - Intro

صوبۂ سندھ کا دارالحکومت، پاکستان کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا شہر، دنیا کے دس بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں سے ایک، آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سرِ فہرست شہروں میں سے ایک، یہ ہے کراچی شہر!
By Nomi887 (Own work) [CC BY-SA 3.0], via Wikimedia Commons
کراچی کی آبادی دو کروڑ چالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، یعنی بہت جلد کراچی شہر ڈھائی کروڑ انسانوں کا مسکن ہوگا۔ ترقی یافتہ، صنعتوں کا مرکز، بندرگاہ کا حامل اور نتیجتاً روزگار کی کثرت ہونے کے باعث یہاں شہرکاری (urbanization) کا عمل خاصا تیز رہا ہے۔ شہرکاری کے باعث وسائل محدود ہوتے چلے گئے اور مسائل بڑھتے چلے گئے۔ یہ صورتحال اب تک برقرار ہے اور آنے والے کئی سالوں تک اس میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آتے۔ وجہ یہ ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ مسائل گمبھیر ہوتے چلے گئے، نیز اب تک متعلقہ حکام اور اداروں میں منصوبہ بندی اور ارادے کا فقدان نظر آتا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں سے، کراچی کی سڑکوں پر سفر کے دوران میرے ذہن میں یہ خیال ضرور کلبلاتا ہے کہ جو مسائل نظر آرہے ہیں انھیں تحریر میں لاؤں۔ شکستہ حال سڑکیں، پانی یا صاف پانی کی عدم فراہمی، ذرائع نقل و حمل خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ کی حالتِ زار، اشیائے ضرورت کی دستیابی، بجلی اور گیس کی آنکھ مچولی، یہ تمام خالصتاً عام آدمی کے مسائل ہیں۔ ان بنیادی مسائل سے آگے بڑھیں تو فرقہ واریت، لسانیت، امن و امان سے متعلقہ مسائل بھی کراچی شہر میں موجود ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اب تک ان مسائل کے حل کے لیے کیا گیا اور مستقبل میں کب اور کیسے بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
سیاسی جماعتوں اور حکومتِ وقت کا کردار اگرچہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم میرا مقصد الزام تراشی نہیں، اس لیے کوشش رہے گی کہ اس پہلو سے دور ہی رہوں اور اصل مدعا پیش کرنے پر توجہ مرکوز رکھوں۔
اس سلسلے کے تحت شائع ہونے والی تحاریر علمی یا تحقیقی نوعیت کی نہیں ہوں گی، بلکہ یہ کراچی کے ایک شہری کی حیثیت سے میرے مشاہدے اور خیالات کا بیان ہوگا۔

Monday, 12 October 2015

Abhijeet's Tere Bina

میٹرک کے دو سالوں میں غالباً مجھے دو ہی میوزک البموں کی کیسٹیں تحفے میں ملی تھیں۔ دونوں ہی کنول ناز نے دی تھیں۔ ایک عدنان سمیع کی ’تیرا چہرہ‘، اور دوسری ابھیجیت کی ’تیرے بنا‘۔ ٹیپ کیسیٹوں کا زمانہ اب تو بس رخصت ہی ہوچکا، لیکن اُن دِنوں ایسی صورتِ حال نہیں تھی۔ کیسیٹوں کا کاروبار اچھا خاصا ہوا کرتا تھا کیوں کہ کمپیوٹر، ایم پی تھری پلیئر، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون اتنے زیادہ عام نہیں ہوئے تھے۔
مجھے یاد نہیں کہ پہلے ’تیرا چہرہ‘ البم ملا تھا یا ’تیرے بنا‘؛ لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ اُس وقت ان دونوں ہی البموں کو اتنا سنا تھا کہ ایک ایک گیت ہی نہیں، گیتوں کے درمیان موسیقی کا اُتار چڑھاؤ اور سارے سُر تک حفظ ہوگئے تھے۔ ابھیجیت بھٹاچاریا کی آواز میں اب نئے گیت تو خال خال ہی سننے کو آتے ہیں، اور نئی گلوکاروں کی آمد سے وہ گم نامی کے گوشوں میں گم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن اُس وقت وہ خاصے مقبول تھے۔ ہر دوسری فلم میں اُن کی آواز میں کوئی نہ کوئی گیت ضرور شامل ہوتا تھا۔ شاہ رخ خان کی فلم ’یس باس‘ میں ’سنیے تو‘ اور ’میں کوئی ایسا گیت گاؤں‘، فلم ’بادشاہ‘ میں ’بادشاہ او بادشاہ‘، فلم ’میں ہوں نا‘ میں ’تمھیں جو میں نے دیکھا‘، فلم ’چلتے چلتے‘ میں ’سنو نا سنونا سن لو نا‘، ’چلتے چلتے‘ اور ’توبہ تمھارے یہ اشارے‘، سنیل سیٹھی کی فلم ’دھڑکن‘ میں ’تم دل کی دھڑکن میں‘، ڈینوموریا کی فلم ’راز‘ میں ’پیار سے پیار ہم‘، فلم بوبی دیول کی فلم ’ترکیب‘ میں ’تیرا غصہ‘، اکشے کمار اور انیل کپور کی فلم ’بے وفا‘ میں ’عشق چھپتا نہیں چھپانے سے‘ وغیرہ، ابھیجیت کے مشہور و معروف گیتوں میں سے چند ہیں۔ ابھیجیت اپنی منفرد آواز کی وجہ سے الگ ہی پہچانے جاتے ہیں اور مجھے اسی لیے ’بطور گلوکار‘ وہ پسند رہے ہیں۔ ’بطور گلوکار‘ کی تخصیص اس لیے کہ موصوف اکثر اوقات پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں انتہائی متنازعہ رائے کا برملا اظہار کرتے ہیں، اور پاکستانی گلوکاروں کی بھارت آمد کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ شاید اپنی قدر گھٹ جانے کا نتیجہ ہے۔
بہرحال، ابھیجیت کا میوزک البم ’تیرے بنا‘ ۲۰۰۳ میں جاری ہوا تھا۔ البم میں درج ذیل آٹھ گیت شامل تھے:
  1. کبھی یادوں میں آؤں
  2. دھیرے دھیرے دھیرے
  3. چلنے لگی ہیں ہوائیں
  4. کچھ تو کہو
  5. کبھی موسم
  6. نیندوں میں خوابوں کا سلسلہ
  7. مجھے کنہیا کہا کرو
  8. ہوگیا ہوگیا
البم کے تمام آٹھ گیتوں کو الفاظ کا جامہ نصرت بدر نے پہنایا جب کہ موسیقی سپتریشی ابھیجیت نے ترتیب دی۔ ۲۰۰۴ سے لے کر اب تک، میں نے اس البم کو نجانے کتنی ہی بار سنا ہے اور لطف اُٹھایا ہے۔ البم کا ہر گیت دیگر پاپ البموں سے الگ ہے۔ ہر گانا محبت کے احساس سے سرشار، دل لبھانے والا اور محبت کی وادی میں لے جانے والا ہے۔
مثلاً
کبھی یادوں میں آؤں، کبھی خوابوں میں آؤں
تیری پلکوں کے سائے میں آکر جھلملاؤں
میں وہ خوشبو نہیں جو ہوا میں کھو جاؤں
ہوا بھی چل رہی ہے، مگر تُو ہی نہیں ہے
فضا رنگیں وہی ہے، کہانی کہہ رہی ہے
مجھے جتنا بھلاؤ، میں اُتنا یاد آؤں!

جو تم نہ ملتیں، ہوتا ہی کیا بھول جانے کو
جو تم نہ ہوتیں، ہوتا ہی کیا ہار جانے کو
میری امانت تھیں تم، میری محبت ہو تم
تمھیں کیسے میں بھلاؤں!

یا پھر، محبوب کی یاد میں

چلنے لگی ہیں ہوائیں
ساگر بھی لہرائے
پل پل دل میرا ترسے
پل پل تم یاد آئے

اسی طرح ’کبھی موسم‘ بھی کہ

یہ پنگھٹ سونے سونے ہیں
وہ خالی خالی جھولے ہیں
لہراتا ساگر کنارا تم بن ادھورا لگے
لہر قدموں سے ٹکرائی
مجھے تم یاد آئے
کبھی موسم ہوا ریشم
کبھی بارش ہوئی رم جھم
مجھے تم یاد آئے

البم کے سبھی گیت بہت ہلکے پھلکے اور لطف دینے والے ہیں۔ شاعری میں کوئی عظیم الشان فلسفہ نہیں ہے، موسیقی میں کوئی عالی شان کمال نہیں دکھایا گیا ہے، گائیکی میں کوئی آسمان کو چھولینے والے سُر نہیں ہیں، لیکن ان میں محبت ہے۔ محبت کرنے والے ایک عام شخص کی کیفیات ہیں، حالِ دل کا بیاں ہے۔
مجھے یاد ہے کہ البم سننے کے ابتدائی دِنوں سے مجھے اس کا ایک گیت خاص کر پسند رہا، ’نیندوں میں خوابوں کا سلسلہ‘۔

ملے جب سے تم سے، خود سے جدا ہوگئے
خدا کی قسم تم پہ فدا ہوگئے
جاگی جاگی آنکھوں نے دیکھے خواب تمھارے ہیں
دیوانے تمھارے ہوئے جب سے ہیں ہم
سبھی یار ہم سے دیکھو خفا ہوگئے
خدا کی قسم تم پہ فدا ہوگئے
نیندوں میں خوابوں کا سلسلہ!
خوابوں میں یادوں کا سلسلہ!

کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہوسکتا ہے اس البم میں ایسی کوئی خاص بات نہ ہو، اور ہوسکتا ہے کہ مجھے یہ البم صرف اس لیے پسند ہو کہ عمر کے ایک خاص حصے میں، ایک خاص شخص کی جانب سے، ایک خاص کیفیت میں دیا گیا تحفہ تھا اور اُس کیفیت میں سنتے ہوئے مجھے اچھا لگنے کے باعث اب تک اچھا لگتا ہو، اور ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو کچھ خاص نہ لگے، لیکن پسند اپنی اپنی!

Tuesday, 25 August 2015

Men's Role in Housekeeping

اکثر مشرقی ثقافتوں میں کچھ کام عورتوں کے ساتھ ایسے مخصوص ہیں کہ مردوں کا وہ کام کرنا معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ ان کاموں میں گھریلو نوعیت کے کام قابلِ ذکر ہیں، مثلاً: باورچی خانے کے کام، گھر کی صفائی، کپڑوں کی دُھلائی، وغیرہ۔ ان کاموں کے معیوب ہونے کا تصور، ہوسکتا ہے کہ کسی زمانے میں مردوں کا تخلیق کردہ ہو لیکن موجودہ دور میں ان تصورات کی پاس دار خواتین ہیں۔ سلیقہ شعاری اور سگھڑاپے کے نام پر لڑکیوں کے ذہنوں میں شروع سے یہ راسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ گھریلو نوعیت کے کام اُن کی ذمہ داری اور فریضہ ہیں، چناں چہ اُنھیں گھر کے مردوں (باپ اور بھائیوں) کی خدمت کرنی چاہیے اور اُنھیں گھر کے ایسے کام کرنے نہیں دینے چاہئیں۔ یہ تصورات گھر میں بہو آنے کے بعد زیادہ زور پکڑ جاتے ہیں اور اگر لڑکا ایسے کسی کام میں اپنی بیگم کا ہاتھ بٹانے لگے تو عورت اچانک ساس کا روپ دھار لیتی ہے اور بہو پر طنز کے تیروں کی برسات ہوتی ہے کہ ہم نے تو کبھی اپنے بیٹے سے ایسے کام نہیں کروائے، ہمارے ہاں لڑکے یہ کام نہیں کرتے، وغیرہ وغیرہ۔ یوں ہی اگر کسی مرد کے بارے میں خبر ملے کہ وہ گھر بھر کے کپڑے دھوتا ہے یا کسی دوسرے کام میں اپنی بیگم کا ہاتھ بٹاتا ہے تو بھی اسی طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں کہ نجانے کس قسم کی عورتیں ہوتی ہیں جو اپنے شوہروں سے ایسے کام کرواتی ہیں، اور الا بلا۔
ایک طرف عورت کا اپنی ہم صنف کے بارے میں یہ رویہ اور دوسری طرف صنفِ مخالف یعنی مرد کی یہ سوچ کہ اصل کام یعنی محنت مزدوری اور کمائی تو ہم کرتے ہیں، سارا دن گھر میں رہنے والی عورت کے پاس کام ہی کیا ہے۔چناں چہ گھر لوٹنے پر وہ یہ چاہتے ہیں کہ بیگم اُن کی خدمت میں جت جائے اور اُف تک نہ کرے۔
اس کے برعکس وہ معاشرے ہیں جہاں صرف شوہر اور بیوی ہی نہیں، اولاد بھی گھر کے ہر کام میں حصہ دار ہے۔ شوہر کماتا ہے تو بیوی بھی کماتی ہے، اس لیے کوئی دوسرے کو یہ طعنہ نہیں دے سکتا کہ اصل کام (کمائی) تو وہ کر رہا ہے۔ نتیجتاً گھر کے کاموں میں بھی دونوں ہی کو برابر حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی اولاد کو بھی، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، شروع ہی سے گھر کے کام سونپے جاتے ہیں، کسی بچّے کے ذمے دوپہر کا کھانا، کسی کے ذمے صبح کا ناشتہ، کسی کے ذمے چھوٹے بہن بھائی کو تیار کرنا، وغیرہ، یوں کسی کے بھی ذہن میں برتری کے جذبات پیدا ہونے کا سدِّباب کرلیا جاتا ہے۔
جس طرح گھر کی دوسری ذمہ داریوں میں مرد اور عورت برابر کے حصہ دار ہیں، اُسی طرح اولاد کی پرورش کا معاملہ بھی ہے۔ صرف کماکر دینے سے باپ کے فرائض پورے نہیں ہو جاتے؛ اولاد کی تعلیم و تربیت، تفریح اور کھیل کود، اور زندگی کے ہر پہلو کی مناسبت سے ماں اور باپ، دونوں ہی پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ باپ صرف اس لیے نہیں ہوتا کہ اولاد کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے عوض ولدیت کے خانے میں اُس کا نام لکھ دیا جائے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر، امریکی عمرانی انجمن (امیریکن سوشیولوجیکل ایوسی ایشن) کے سالانہ اجلاس میں جورجیا اسٹیٹ یونیورسٹی نے ایک تحقیق پیش کی ہے کہ مل جل کر اپنی اولاد کی پرورش کرنے والے ازدواجی جوڑوں کے تعلقات اور جنسی زندگی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ نو سو (۹۰۰) سے زائد شادی شدہ جوڑوں کی معلومات پر تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق بچّوں کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داریاں بانٹنے سے جوڑے خوش رہتے ہیں، اور والدین جنسی اور جذباتی طور پر زیادہ اطمینان محسوس کرتے ہیں؛ جب کہ جہاں عورتیں بچّوں کی نگہداشت میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں، وہاں مرد اور عورت دونوں ہی کم مطمئن نظر آئے۔
تحقیق اگرچہ صرف اولاد کی نگہداشت کے حوالے سے مرد و عورت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے، تاہم میرا ماننا یہ ہے کہ ازدواجی تعلقات میں بہتری کے لیے صرف اولاد کی ذمہ داریاں نہیں، بلکہ دوسرے معاملات میں بھی مل جل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے سے معاملات خاصے بہتر رہتے ہیں۔ اگر مرد اپنی ہفتہ وار چھٹی کے دن صرف یہ سوچ کر، کہ عورت کو گھریلو کاموں سے کسی بھی دن چھٹی نہیں ملتی، گھر کے کاموں میں عورت کا ساتھ دینے لگے تو دونوں کے تعلقات میں خاصی خوش گوار بہتری آسکتی ہے۔ ایک طرف عورت کو یہ احساس ہوگا کہ شوہر کو اُس کا خیال ہے تو دوسری طرف مرد کو بھی یاد رہے گا کہ گھر کے کام معمولی نہیں ہوتے، اچھا خاصا تھکا دینے اور کبھی ختم نہ ہونے والے ہوتے ہیں۔
بچّے پالنے کا تجربہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ یہ کام کس قدر مشکل ہے۔ بچّے خواہ جتنے چھوٹے ہوں، سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور آپ کو تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں۔ بچّوں کی ضد سے متعلق ایک دلچسپ لطیفہ ہے کہ اکبر بادشاہ کے دربار میں اسی موضوع سے متعلق ایک بار گفتگو ہو رہی تھی۔ اکبر بادشاہ نے کہا کہ بچّوں کو پالنا ایسا کون سا مشکل کام ہے۔ ملّا دو پیازہ نے کہا، ٹھیک ہے حضور، کچھ وقت کے لیے میں بچّہ بن جاتا ہوں اور آپ میرے باپ بن کر مجھے بہلائیں۔ بادشاہ تیار ہوگیا۔ ملّا دو پیازہ نے فوراً رونا شروع کردیا۔ بادشاہ نے پوچھا، کیا چاہیے؟ کہنے لگے، اونٹ چاہیے۔ بادشاہ نے اونٹ منگوا دیا۔ اونٹ آیا تو ملّا دوبارہ رونے لگے۔ بادشاہ نے دریافت کیا، کیا چاہیے؟ بولے، سوئی چاہیے۔ لیجیے جناب، حکم پر سوئی بھی حاضر کر دی گئی۔ اب تو ملّا مزید مچل مچل کر رونے لگے۔ بادشاہ نے خواہش پوچھی تو بولے، اونٹ کو سوئی کے ناکے سے گزارو۔ بادشاہ نے بہت سمجھایا کہ سوراخ بہت چھوٹا ہے اور اونٹ اتنا بڑا، اس میں سے کیسے گزرے گا، لیکن ملّا مان کر نہ دیے۔ آخر بادشاہ کو ہار ماننی پڑی۔
تو، جب مرد دن بھر گھر سے باہر رہتے ہیں تو شام میں واپس آکر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچّے کے ساتھ کچھ باتیں کرلیں، کھیل لیے تو کافی ہے۔ بچّہ دن بھر کیا کرتا رہا ہے، اگر پڑھ رہا ہے تو پڑھائی میں کیسا ہے، زندگی میں کن مسائل کا سامنا کر رہا ہے، کوئی پروا نہیں۔ اور بچّہ ابھی ننھا ہو، رات میں تنگ کرتا ہو تو بھڑک جاتے ہیں۔ اپنی نیند اور آرام زیادہ عزیز رکھتے ہیں، غصّے میں چیختے چلّاتے ہیں، اور اگر زیادہ شرافت دکھائیں تو تکیہ چادر اُٹھاکر دوسرے کمرے کا رُخ کرتے ہیں۔ پھر بچّہ اپنی ماں کو جب تک ستائے جائے، جگائے جائے۔ ہاں، یہ توقع ضرور ہوتی ہے کہ بچّے کی ماں اگلے دن صبح صبح ان کی خدمت کے لیے تیار ہو اور ناشتہ بناکر دے سکے۔
ایسے میں بچّے کی ماں، جو دن بھر اُس کی دیکھ بھال کرکے تھک چکی ہوتی ہے، رات میں بچّے کے تنگ کرنے پر کبھی کبھی خود بھی قابو نہیں رکھ پاتی۔ بچّے کو ایک تھپڑ پڑتا ہے، پھر بچّہ بلک بلک کر روتا ہے، اور ماں سسک سسک کر۔
اللہ کا شکر ہے کہ حفصہ (میری بیٹی) رات میں زیادہ تنگ نہیں کرتی، لیکن کبھی اُس نے تنگ کیا بھی تو میں نے تھکن اور نیند سے چور ہونے کے باوجود کمرے سے باہر چلے جانا اولاد سے اپنی محبت کی توہین سمجھا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ عروسہ (اہلیہ) کی تھکن دیکھ کر میں نے اُسے سونے کا کہہ دیا اور خود حفصہ کو بہلاتا رہا۔ گھر میں دن بھر بچّے کی دیکھ بھال کرنے سے زیادہ تھکانے والا شاید کوئی کام نہیں، جسمانی اور ذہنی، ہر دو طرح کی تھکن ہوجاتی ہے۔ ایسے میں بچّہ اگر رات میں بھی ستانے لگے تو صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے دیر نہیں لگتی۔ ایسے میں آپ کو کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے؛ اور شوہر سے بہتر ساتھی کون۔
صرف اولاد کی پرورش ہی نہیں، گھر کے دیگر کاموں میں بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ ممکن حد تک ہاتھ بٹاسکوں، خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔ عروسہ کی بیماری یا تھکن کی حالت میں، میں نے کپڑے دھونے، برتن دھونے، کھانا تیار کرنے، کپڑے استری کرنے میں کبھی کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ یہ سب کام جتنے ایک عورت کے ہیں، اُتنے ہی مرد کے بھی ہیں۔ حقیقتاً ذمہ داری تو مرد ہی کی ہیں۔ کوشش کرتا ہوں کہ ایک اچھا شوہر اور ایک اچھا باپ بن سکوں۔
تحریر کا آغاز گھریلو ذمہ داریاں خواتین تک محدود رکھنے کے تصور سے کیا تھا، اختتام اس تصور کے خاتمے کے لیے اپنی معمولی کوششوں کے تذکرے پر۔

Being a Parent...

مجھے اپنی اولاد سے بے حد محبت ہے۔
یقیناً سبھی والدین کو ہوتی ہے۔
لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کے والدین اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ نجانے کیوں! کیا اس لیے کہ اب والدین اور اولاد کے درمیان تعلق کی نوعیت خاصی تبدیل ہوگئی ہے اور اُس میں دوستی کا عنصر زیادہ شامل ہوگیا ہے، یا واقعی نئی نسل کو اپنی اولاد سے محبت زیادہ ہے۔
ہمارے والدین بننے سے پہلے جو والدین تھے/ہیں، اُن کا اپنی اولاد سے تعلق محبت کے ساتھ ساتھ رعب اور دبدبے کا بھی تھا۔ اُس میں رکھ رکھاؤ تھا، فاصلہ تھا۔ بے تکلفی نہیں تھی۔ اب اس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
والدین اور اولاد کے حوالے سے ایک اور نمایاں تبدیلی بھی مجھے محسوس ہوتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب باپ اپنی اولاد سے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔ اُن سے زیادہ محبت کرنے لگے ہیں۔ اُن کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ اُنھیں زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ میں باپ بننے کے بعد اپنی اولاد کے لیے جو محبت محسوس کر رہا ہوں، اُس کے آگے مجھے اپنے والدین کی محبت اور توجہ کم لگ رہی ہے۔ میں نے کئی رشتے دار اور جان پہچان والے باپوں کے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے نوجوان ماؤں کو طنزاً اپنے شوہروں سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ آپ کو ماں سے زیادہ اولاد کی مامتا ہے۔
کیا واقعی ایسا ہے؟

Monday, 10 August 2015

From Karachi Board to AKU-EB

ماہِ رواں (اگست) کے پہلے ہفتے میں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی (میٹرک بورڈ) پر خاصی ہنگامہ آرائی رہی۔ وجہ میٹرک کے امتحانی نتائج تھے جو ماہِ جولائی کی آخری تاریخ کو جاری کیے گئے تھے۔ احتجاج کرنے والے بعض طلبا کو یہ شکایت تھی کہ جو پرچے اُنھوں نے دیے تھے، اُن میں اُنھیں غیر حاضر ظاہر کیا گیا ہے، اور بعض طلبا نے نتائج میں دیگر غلطیوں کی بھی نشاندہی کی۔ طلبا کے غضب اور توڑ پھوڑ کو دیکھتے ہوئے عملے کو وہاں سے جانا پڑا۔ بعد ازاں چیئرمین بورڈ انوار احمد زئی نے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تو احتجاج ختم ہوا۔ چیئرمین بورڈ کے مطابق متاثرہ طلبا کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے۔ معاملہ حل کرنے کے لیے متاثرہ طلبہ و طالبات کی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کے احکامات جاری کیے گئے، بورڈ میں خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے۔  لیکن یہ کوئی نئی خبر تو نہیں۔
ہر سال ہمیں امتحانی نتائج کے اعلان پر ایسی ہی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ کبھی اسکول، کبھی کالج، اور حتاکہ کبھی کبھی جامعات کی سطح پر بھی امتحان اور جانچ پڑتال کے نظام پر اعتراضات اُٹھتے ہیں، خامیاں سامنے آتی ہیں، احتجاج ہوتے ہیں اور پھر مطالبات پورا ہونے کی یقین دہانی۔
خود مجھے انٹرمیڈیٹ کے امتحانی نتائج میں ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مضمون جس کا میں نے امتحان دیا تھا، اُس کے نتائج درج نہیں تھے اور ایک وہ مضمون جسے میں نے منتخب ہی نہیں کیا تھا، اُس کے آگے مجھے غیر حاضر لکھا گیا تھا، چناں چہ مجموعی طور پر میں امتحان میں ناکام تھا۔ لہٰذا مجھے انٹرمیڈیٹ بورڈ کا رُخ کرنا پڑا۔ ایک دو دن تک تنگ کرنے کے بعد، جب متعلقہ اہلکار نے میرا کام کیا تو وہ بھی اس طرح کہ میرے سامنے ہی میری متعلقہ امتحانی کاپی نکالی، وہ رجسٹر کھولا جس میں تمام امتحانی نتائج ہاتھ سے درج کیے جاتے تھے، اور ہاتھ کے ہاتھ میرے امتحانی نتائج درست کر دیے۔ جی ہاں، کوئی کمپیوٹر ریکارڈ نہیں، کوئی جانچ پڑتال نہیں، کوئی نگرانی نہیں۔ ایسی صورت میں اگرچہ وضاحت کی ضرورت تو نہیں پڑتی، پھر بھی لکھ رہا ہوں کہ اس طرح کی لکھت پڑھت میں دو نمبری کرنے کے امکانات کے روشن ہونے میں کس احمق کو شبہ ہوسکتا ہے۔ اور وہاں دو تین دن آنے جانے کے دوران، میں نے مشاہدہ بھی کیا کہ کئی لوگوں کے کام بس یوں ہی ہو رہے تھے۔۔۔ سفارشیں، فون، پیسہ! سب کچھ!
تو، میٹرک بورڈ پر ہنگامے کی خبر پڑھ کر آغا خان یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ آغا خان بورڈ نے ماہِ جولائی کے آغاز میں میڈیا سے منسلک اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا جس میں بحیثیت بلاگر مجھے اور کاشف نصیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ آغا خان بورڈ کے حوالے سے کئی باتیں اور سوالات ایک عرصے سے میرے ذہن میں تھے، اور اُس ملاقات میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ اس غیر رسمی دعوت میں کوئی لیکچر یا پریزنٹیشن یا تقریر نہیں تھی، صرف ہلکی پھلکی گفتگو تھی۔ بورڈ کے تقریباً سبھی شعبوں سے کوئی ایک نمائندہ موجود تھا؛ امتحانی پرچے مرتب کرنے والے، امتحانی پرچوں کی جانچ پڑتال کرنے والے، انتظام کرنے والے، مارکیٹنگ والے، سبھی تھے۔ یہاں تک کہ ایگزامنیشن بورڈ کے ڈائریکٹر جناب شہزاد جیوا بھی۔
یہ میری آغا خان یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کے ساتھ صحیح معنوں میں پہلی شناسائی تھی۔ اس سے پہلے صرف نام پتے ہی سے واقفیت تھی۔ آغا خان کمیونٹی پاکستان میں صحت اور تعلیم کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دے رہی ہے، اُن سے اور اُن کے اعلا معیار سے سبھی واقف ہیں؛ لیکن امتحانی بورڈ کے بھی اعلا معیارات کے بارے میں جان کر حیرانی بھی ہوئی اور فخر بھی۔
آغا خان بورڈ کا تمام تر نظام کمپیوٹرائزڈ ہے۔ ہر طالبِ علم کو ملنے والی ہر امتحانی کاپی کا ایک ایک صفحہ خاص طور پر اُسی کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ہر صفحے پر ایک منفرد بار کوڈ ہوتا ہے جو اُس طالبِ علم سے منسلک ہوتا ہے۔ امتحانات کے بعد ہر امتحانی کاپی کو اسکین کیا جاتا ہے اور سوالات کے لحاظ سے ڈیجیٹل صفحات الگ کرلیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں، ہر سوال الگ ممتحن کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک امتحانی پرچے میں دس سوال ہیں تو دس ممتحن بیٹھے ہیں۔ پہلا ممتحن صرف پہلے سوال کی جانچ کر رہا ہے، دوسرا ممتحن صرف دوسرے سوال کی، اور تیسرا ممتحن تیسرے سوال کی۔ چناں چہ،  ہر ممتحن کی تمام تر توجہ ایک ہی سوال پر رہے گی اور وہ نشانات لگانے (نمبر دینے) میں بہتر انصاف کرسکے گا۔ بعد ازاں، ہر صفحے پر موجود بارکوڈ ہی کی مدد سے ہر طالبِ علم کے تمام امتحانی پرچے اکٹھے کیے جاتے ہیں اور پھر امتحانی نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے۔
امتحانی پرچوں کی جانچ کا یہ طریقہ میرے لیے نیا اور انوکھا ہی ہے، کیوں کہ ایم۔اے ایجوکیشن کرتے ہوئے ’’اسیسمنٹ اینڈ ایولیویشن‘‘ (Assessment & Evaluation) کے مضمون میں بھی میں نے یہ طریقہ کار نہیں پڑھا تھا۔ اس طریقے میں شفافیت یقینی بنایا جانا بھی ممکن ہوپاتا ہے کہ ہر مضمون کی کاپی ہی نہیں، بلکہ ہر کاپی کے صفحات کی جانچ کرنے والے بھی الگ الگ لوگ ہیں۔ ورنہ کراچی میٹرک بورڈ کے امتحانی نتائج میں خرابی پر کرپشن اور گھپلوں کا الزام فوراً سامنے آجاتا ہے، کیوں کہ سبھی جانتے ہیں کہ دیگر سرکاری اداروں کی طرح سرکاری امتحانی بورڈ کی کیا صورتِ حال ہے۔
اس طریقۂ کار کے تحت ’’ترس کھا کر‘‘ نمبر لینے کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔ ورنہ آپ نے سوشل میڈیا پر ایسی امتحانی کاپیوں کی تصاویر تو دیکھ ہی رکھی ہوں گی، یا اپنے زمانۂ طالبِ علمی میں ایسے طلبا کو جانتے ہوں گے جو امتحانی کاپی میں اپنے دُکھڑے لکھ کر آتے تھے اور اُمید کرتے تھے کہ اُن کی درد بھری کہانی پر ترس کھاکر ممتحن اُنھیں کسی صورت پاس ہی کردے گا۔
امتحانی نظام میں ’’اسکروٹنی‘‘ کا مرحلہ بھی بے حد اہم ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالبِ علم سمجھتا ہے کہ اُس کا امتحانی نتیجہ درست نہیں ہے تو وہ دوبارہ جانچ پڑتال کی درخواست دے سکتا ہے۔ کراچی بورڈ کے برعکس آغا خان بورڈ اسکروٹنی کی درخواست پر صرف نمبر دوبارہ شمار کرکے نہیں بتادیتا، بلکہ ’ہیڈ ایگزامنر‘‘ سے کاپی کی دوبارہ جانچ کروانے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ اس صورت میں کاپی کا ہر ہر سوال دوبارہ چیک کیا جاتا ہے۔ امتحانی نتائج کے علاوہ اسکول کو ایک خلاصہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اسکول کی کارکردگی کیسی رہی اور دوسرے اسکولوں کی کارکردگی کیسی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک مختصر رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔
اعلا معیارات کا جب بھی ذکر ہوتا ہے، ہمیں فوراً حساب کتاب کا خیال آتا ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ معیار اعلا ہے تو رقم بھی اچھی خاصی اینٹھی جا رہی ہوگی، اور جہاں رقم زیادہ ہو وہاں پھر طبقاتی تقسیم کو پروان چڑھانے کا اندیشہ سر اُٹھاتا ہے۔ لہٰذا ہم نے اس بارے میں بھی سوال کر ڈالا۔ آغا خان بورڈ کے تحت میٹرک کے امتحانات کی فیس آٹھ ہزار روپے وصول کی جاتی ہے۔ کراچی میٹرک بورڈ کی تقریباً ایک ہزار روپے امتحانی فیس کے مقابلے میں اگرچہ یہ کچھ زیادہ ہے لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں، متوسط طبقہ بآسانی یہ رقم دے سکتا ہے۔
تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جہاں مختلف نصاب اور درسی کتب پڑھائے جانے کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے، وہیں مختلف نصاب اور درسی کتابوں کو طبقاتی خلیج میں اضافے کا سبب بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں آغا خان بورڈ نے یہ پالیسی اپنائی ہے کہ وہ کسی مخصوص درسی کتاب کو پڑھائے جانے پر اصرار نہیں کرتا۔ ہر مضمون کے جاری کردہ سلیبس کی تدریس کے لیے چند کتابیں تجویز ضرور کی جاتی ہیں لیکن کتابوں کا انتخاب اسکول کی اپنی صوابدید پر چھوڑا جاتا ہے۔ وہ اسکول غیر ملکی کتب کے ذریعے بھی سلیبس کی تکمیل کرسکتا ہے اور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب سے بھی۔
آغا خان بورڈ کے مختلف احباب سے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی؛ تعلیمی نظام میں بہتری کے راستوں، امتحانی طریقہ کار کی اہمیت، نتائج کو شفاف بنانے کی ضرورت، اور آغا خان بورڈ کی مارکیٹنگ ٹیم کے سوشل میڈیا پر متحرک نظر نہ آنے پر بات چیت ہوئی۔
آغا خان بورڈ امتحانات لینے کے ساتھ ساتھ اسکول کے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ پاکستان کے قومی نصاب کو اپنانے کے باعث بورڈ کے تحت امتحان دینے والے طلبا کسی بھی دوسرے تعلیمی ادارے میں بآسانی داخلہ لے سکتے ہیں اور دوسرے تعلیمی بورڈز کے برعکس ان طلبا کے امتحانی نتیجوں میں نمبروں کی کٹوتی نہیں ہوتی۔
بورڈ کے ڈائریکٹر، شہزاد جیوا نے ملاقات کے اختتام پر دفتر آنے کی دعوت بھی دی۔ چناں چہ ۷ اگست کو اُن کے دفتر میں دو گھنٹے طویل ملاقات رہی جس میں بورڈ کی امتیازی خصوصیات اور دیگر معاملات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ شہزاد جیوا کا انداز کچھ ایسا دوستانہ ہے کہ ملنے والے کو اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیتے اور بڑی اپنائیت سے کھل کر ہر پہلو پر گفتگو کرتے ہیں۔ ملاقات میں اُنھوں نے وہ رجسٹر بھی دکھایا جس پر، بورڈ کے دفتر آنے والے مختلف لوگ تبصرے درج کرتے ہیں۔ مثبت اور منفی تبصرے بھی پڑھ کر سنائے اور دلچسپ واقعات بھی۔
پاکستانی معاشرے میں بہتری لانے اور تعلیمی نظام کو سدھارنے کے لیے امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے ضمن میں شہزاد جیوا اور آغا خان یونیورسٹی ایگزامنیشن بورڈ کا جو وژن ہے، قوی اُمید کی جاسکتی ہے کہ معاشرے پر واقعی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔