Monday, 9 June 2014

Uraan : Book Review

اُڑان [Uraan] by Jeffrey Archer
My rating: 5 of 5 stars

’’اڑان‘‘ (As the Crow Flies) جیفری آرچر کا دوسرا ناول ہے جس کا اُردو ترجمہ میرے ہاتھ لگا اور میں نے اسے پہلی فرصت میں پڑھ ڈالا۔ اس سے پہلے ’’کین اینڈ ایبل‘‘ (اردو ترجمہ بعنوان ’’دو بوندیں ساون کی‘‘) کا مطالعہ کیا تھا۔ ’’کین اینڈ ایبل‘‘ کی طرح یہ ناول بھی کہانی پن، سنسنی خیزی اور جوش و ولولے سے بھرپور ہے۔ اُردو ترجمہ مشہور و معروف علیم الحق حقی نے کیا ہے جو انگریزی ادب سے انتخاب کے معاملے میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
’’اُڑان‘‘ کا مرکزی کردار چارلی ٹرمپر ہے جس کا تعلق لندن ایسٹ اینڈ کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔ اُس کا باپ نشے اور جوے کا عادی تھا۔ چارلی اپنے دادا کے ساتھ اُن کے پھلوں اور سبزیوں کا ٹھیلا سنبھالتا۔ بچپن میں چارلی کا صرف یہی ایک خواب تھا کہ اُس کا اپنا بھی ایک ٹھیلا ہو جس کا مالک صرف وہ ہو اور دُکان داری میں اس کا نام ہو۔ طویل عرصے بچت کے بعد جب وہ اپنا ٹھیلا خریدنے کے قابل ہوا اور خوشی خوشی ایک خوب صورت ٹھیلا خرید کر دادا کو حیران کرنے کے لیے اُن کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ دادا انتقال کرچکے ہیں۔ دادا کے انتقال کے بعد چارلی نے اُن کی جگہ لے لی اور جلد ہی اُس کی دُکان داری کے انداز نے خریداروں کے دل موہ لیے۔
اس کے بعد یہ ایک طویل داستان ہے کہ چارلی کو کاروبار وسیع کرنے کے لیے اُس کی ایک ہم جماعت لڑکی بیکی کی جانب سے کیسے ایک موقع ملا اور کس طرح چارلی کے ٹھیلے نے ایک بڑے سپر اسٹور اور چارلی ٹرمپر نے سر چارلس تک کا سفر طے کیا۔
یہ ایک طویل ناول ہے۔ اصل انگریزی ناول کی ضخامت سات سو صفحات کے لگ بھگ ہے اور اس کا اُردو ترجمہ تقریباً نو سو صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم ناول کا ہر باب، ہر منظر قاری کا تجسس برقرار رکھتے ہوئے اُسے اپنے سحر سے نکلنے نہیں دیتا۔ ناول کے مرکزی کردار وقتاً فوقتاً اپنی داستان بیان کرتے ہیں۔ یوں جہاں کچھ واقعات کی تکرار ہوتی ہے وہیں ایک واقعے کے مختلف پہلو واضح ہوتے ہیں۔
جیفری آرچر کے دو ناولوں (کین اینڈ ایبل، ایز دی کرو فلائز) کا بنیادی پیغام ایک جیسا لگتا ہے۔ آرچر ان ناولوں کے ذریعے قارئین کو اپنی زندگی میں ہمت و حوصلے سے کام لینے، کچھ کر گزرنے اور جوش و ولولہ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ اپنی کہانیوں کے ذریعے جیسے نفسیاتی معالج کا کردار ادا کرتے ہیں جو آپ کو ترغیبی اور جوش و جذبے سے بھرپور واقعات سناتا ہے تاکہ آپ میں بھی کچھ کرنے کی اُمنگ پیدا ہو۔ آرچر زندگی میں کام یابی کے گُر بتاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل موجود ہوتا ہے اور ہر پل عقل و دانش سے کام لے کر حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ وہ سکھاتے ہیں کہ خطروں سے ڈر کر کوئی خطرہ مول نہ لینے والے نہیں، بلکہ خطروں سے ٹکرا جانے والے لوگ آگے بڑھنے کے مواقع پاتے ہیں۔
اس ناول کے مطالعے کے دوران مجھے خیال آیا کہ جیفری آرچر کے بارے میں کچھ جانا جائے۔ آپ 15 اپریل 1940ء کو لندن میں پیدا ہوئے۔ آپ نہ صرف کئی بہترین کہانیوں کے مصنف ہیں بلکہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا مذکورہ ناول 1991ء میں شایع ہوا تھا۔ جیفری آرچر کی ویب سائٹ پر اُن کی کتب اور دیگر کاموں کے بارے میں خاصی معلومات موجود ہیں۔

View all my reviews

Tuesday, 27 May 2014

Haazir Ghayeb : Book Review

حاضر غائب [Haazir Ghayeb]
حاضر غائب [Haazir Ghayeb] by Azhar Kaleem
My rating: 5 of 5 stars
اُردو ادب میں مزاح کی مقدار اور معیار پر کوئی رائے دینا میرے لیے مشکل ہے؛ لیکن، اگر اُردو مزاحیہ ناولوں کا ذکر ہو تو ایک ہفتہ قبل تک میں اُردو کا بہترین ناول ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ کو سمجھتا تھا جسے معروف مزاح نگار گُل نوخیز اختر نے لکھا ہے۔ تاہم اب معاملہ کچھ مختلف ہے؛ کیوں کہ، ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ کی جگہ سرِ فہرست اظہر کلیم ایم اے کا ناول ’’حاضر غائب‘‘ آگیا ہے۔
عمران سیریز لکھنے والے مظہر کلیم ایم اے کا نام تو سنا تھا، لیکن اظہر کلیم ایم اے کا نام پہلی ہی بار اس ناول پر دیکھا۔ تقریباً سوا چار سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم ناول سطر سطر مزاح سے بھرپور ہے۔ مزاح بھی بے ہودگی، لچر پن، فضولیات سے پاک اور ایسا مزاح جسے پڑھ کر آپ صرف مسکرانے پر نہیں؛ بل کہ، قہقہہ مارنے پر مجبور ہوجائیں۔ میرا دعوا ہے کہ اس ناول کا کوئی صفحہ ایسا نہیں ہوگا جب قاری ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔ اسی لیے یہ انتباہ بھی ضروری ہے کہ دفتر یا عوامی مقامات پر پڑھنے سے گریز بہتر ہے کہ آپ کی بے ساختہ ہنسی سے لوگ آپ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ناول کا مرکزی کردار عید محمد عرف عیدو ہے جسے اپنا نام سخت ناپسند ہے؛ لہٰذا ’ابنِ‘ اور ’ابو‘ کا فیشن ملحوظ رکھتے ہوئے وہ اپنا نام ابوالعمران رکھتا ہے اور نیت کرتا ہے کہ جب اُس کے ہاں بیٹا ہوگا تو اُس کا نام عمران رکھے گا۔ ابوالعمران کو ایک بوسیدہ کتاب میں ایک ایسی دوا کا نسخہ ہاتھ لگتا ہے جسے پینے سے انسان غائب ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی یہ کہ نسخہ ادھورا ہوتا ہے۔ لیکن ابوالعمران مختلف تجربات کرتے ہوئے غائب ہونے کی دوا تیار کرلیتا ہے۔ مصیبت صرف یہ ہوتی ہے کہ نسخہ ادھورا ملنے کی وجہ سے دوا میں کوئی کمی رہ جاتی ہے اور یوں اُسے دوا پر مکمل اختیار نہیں رہتا۔ جب وہ حاضر ہونا چاہتا ہے تو غائب ہوجاتا ہے اور جب غائب ہونا چاہتا ہے تو حاضر۔ یوں اُسے ہر بار دوا کے استعمال پر ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً جب اُس کے گھر پر غنڈے حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ دوائے غیاب استعمال کرکے آرام سے گھر کا دروازہ کھول دیتا ہے تاکہ غنڈوں کو ڈرا سکے؛ لیکن، جب غنڈے اُس کی ٹھیک ٹھاک مار لگاتے ہیں تو اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غائب نہیں ہوسکا ہے۔ یوں ہی ایک بار جب وہ چاروں طرف سے آگ میں گھر جاتا ہے اور امدادی ٹیم مدد کرنے کے لیے پہنچتی ہے تو ابوالعمران غائب ہوجاتا ہے اور امداد سے محروم رہتا ہے۔
موجودہ دور میں پریشانیوں اور فکروں کا جنجال اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہمیں مسکرانے کے مواقع بہت کم میسر آتے ہیں۔ ایسے میں ’’حاضر غائب‘‘ آپ کے قہقہے لوٹانے اور مزاج خوش گوار بنانے کا بہترین نسخہ ہے۔ اور یہ نسخہ ابو العمران کی دوائے غیاب کی طرح ادھورا نہیں، پورا ہے۔

ناول ’’حاضر غائب‘‘ کتاب گھر پر پڑھیں

View all my reviews

Sunday, 11 May 2014

A Note on Mother's Day

اصرار ہے کہ ’’یومِ ماں‘‘ پر کچھ تحریر کروں۔ میں نے پہلے کبھی اس موضوع پر لکھنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ جب لکھنے کا سوچنے بیٹھا تو کوئی آغاز ہی سمجھ نہ آسکا۔ ماؤں کے بارے میں کئی جذباتی تحاریر پڑھی ہیں۔ مجھے اُن میں لفاظیت زیادہ نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تعریف کرنے کے لیے حقیقت بیان کرنے کی بہ جائے جذباتی انداز اور لفاظی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اس رجحان کے پیشِ نظر، ماں پر لکھی جانے والی دیگر تحاریر کی طرح اس تحریر کا آغاز بھی کچھ یوں ہونا چاہیے تھا۔
کوئی پریشانی، کوئی دکھ ہو، ماں کے گوش گزار کرتے ہی، ہم کلام ہوتے ہی،اک راحت سی روح تک اترتی، میٹھی سی تاثیر رگوں میں سرایت کرجاتی ہے۔ ماں کی بےپایاں محبت لفظوں میں پرونا بہت مشکل ہے، ماں کی الفت و محبت اپنے اندر اک متنوع جہاں سموئے بحرِ بےکراں کی مانند ہے، جس کی گیرئی و گہرائی کا درست اندازہ نا ممکن ہے، ماں کے رشتے میں اس پاک پروردگار نے کیا کیا گھول ملادیا کہ صرف اک ماں کے وجود کے ہونے سے، کڑی دھوپ سی زندگی، ٹھنڈی گھنیری چھاؤں سی لگتی ہے۔ماں تمام لطیف جذبوں سے مجتمع، مجسمِ محبت ہی محبت ہے، ماں کے رشتے کا کومل دھاگہ، اولاد کی روح کے ریشے سے جڑا ہوتا ہے، اسی لیے اولاد کی ذرا سی تکلیف پہ، ریت پہ مچھلی کی طرح تڑپ اٹھتی ہے، ہمہ وقت دعاؤں کے پھول نچھاور کرتی، اولاد کے لیے باعثِ راحت تو ہے ہی، رب کی رضا کے حصول کا بھی سبب ہے۔
لیکن مجھے ایسی عبارات بے جان لگتی ہیں؛ ایسے مُردوں کی طرح جنھیں آخری رسومات کے لیے اس قدر تیار کیا جاتا ہے جیسے ابھی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور خود الوداعی خطاب کریں گے۔
ماں کی محبت سے انکار نہیں۔ اولاد کو کوئی تکلیف پہنچے تو ماں بے تاب ہوجاتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کو ہر حال میں پریشانیوں سے دور اور خوش دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن مجھے آج کل کی ماؤں کو دیکھ کر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مادّہ پرست دور نے ماؤں کی مامتا پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ شاید سماجی و معاشی مجبوریاں اور ضروریات ہمارے رشتوں میں گوندھے جذبات کو کم سے کم کیے جا رہے ہیں۔ دوسری کمی موجودہ دور کی ضروریات اور حالات پیشِ نظر رکھتے ہوئے تربیت کا معاملہ ہے۔
ایشیائی ممالک میں ماؤں کا کردار زیادہ اہم ہے۔ ماؤں کے ناتواں کندھوں پر جو بوجھ ہے، اُس کا اندازہ ماں بنے بغیر لگانا ممکن نہیں۔ یومِ ماں کے موقع پر میں تمام ماؤں کو اُن کے اہم معاشرتی و سماجی کردار پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ موجودہ اور مستقبل کی مائیں اپنی اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے پہلے خود خصوصی راہ نمائی اور تربیت ضرور حاصل کریں گی تاکہ اُن کی اولاد زندگی کے چیلنجوں کا بھرپور مقابلہ کرسکے۔

Thursday, 8 May 2014

Insani Qayamat : Book Review

انسانی قیامت [Insani Qayamat]
انسانی قیامت [Insani Qayamat] by Gore Vidal
My rating: 4 of 5 stars

جب انسان مشکلات سے نجات پانے کے تمام حقیقت پسند راستے بندپاتا ہے تو وہ خواب دیکھتا ہے۔ پل بھر میں چمتکار ہونے کے خواب، ہر مشکل اور پریشانی سے نجات پانے کے خواب، اور پھر زندگی کی جھنجھٹ سے آزاد ہونے کے خواب۔
کالکی ہونے کے دعوے دار نے زندگی سے تنگ آئے انسانوں کو یہی خواب دکھایا۔ اس دنیا کے خاتمے کے نتیجے میں ہر اُلجھن سے آزاد ہوکر اگلی دنیا میں بہتر زندگی کا خواب۔ نتیجتاً بے بس انسانوں کی ایک بڑی تعداد اُس کی ہم نوا بن گئی۔ اُس نے دنیا کو بتایا کہ وہی براہما ہے، وہی وشنو ہے اور وہی شیوا ہے۔ وہی پچھلی بار گوتم کے روپ میں آیا تھا اور ’کالکی‘ اُس کا دسواں جنم ہے جو ایک امریکی فوجی جم کیلی کے جسم میں حلول کرگیا ہے۔ اُس نے کہا کہ برائی بڑھ جانے کے باعث دنیا کے اس دور کا خاتمہ قریب آ پہنچا ہے اورلوگ پوتر ہونے اور اگلے جنم میں اچھا جسم پانے کے لیے اُس کا پیغام اپنالیں۔ پھر ہر طرف کنول کے پھول تھے اور اُس کے پیغام کا پرچار کرنے والے۔
تھیوڈور اوٹنگر (ٹیڈی) ایک ہواباز خاتون تھی تاہم حقوقِ نسواں پر اُس کی لکھی کتاب اُس کی اصل شہرت کا سبب تھی۔ پھر اُسے پیغام ملا کہ کالکی اپنی زندگی کا پہلا انٹرویو اُسے دینا چاہتا ہے۔ رقم کی ضرورت کے باعث ٹیڈی کو راضی ہونا ہی پڑا، اگرچہ وہ بے دین تھی۔ لیکن کالکی کا حقیقی مقصد انٹرویو ہرگز نہیں تھا۔ یہ محض ٹیڈی کی زندگی میں تبدیلیوں کا ایک حیرت انگیز بہانہ تھا۔ ایک طرف کالکی کے عقیدت مندوں کی تعداد بڑھ رہی تھی تو دوسری طرف کالکی پر سنگین قسم کے الزام لگ رہے تھے۔ انسدادِ منشیات کے اداروں کو یقین تھا کہ کالکی انٹرپرائزز منشیات فروشی میں بڑے پیمانے پر ملوث ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ’’کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انھیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑسکتے ہیں کبھی؟ وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔‘‘
لیکن یہ بات ہر ایک کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ درحقیقت کالکی (جم کیلی) چاہتا کیا ہے؟ دنیا یقین اور شک کی درمیانی راہ پر کھڑی تھی۔ آخر کالکی نے قیامت کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ اُس کے ماننے والے مکتی پانے کے لیے پرہیزگاری اپنانے لگے تو اُس کے مخالفین اُس کا مذاق اُڑانے لگے کہ بھلا ایک شخص کیسے روئے زمین سے ساری آبادی مٹاسکتا ہے۔ لیکن کالکی کا منصوبہ مذاق نہیں تھا۔ صرف اُن گنتی کے لوگوں نے اُس کے ساتھ زندہ رہنا تھا جنھیں کالکی نے خود منتخب کیا تھا۔
اور پھر وہ آخری دن آگیا۔ خاموشی کا راج! روئے زمین پر صرف پانچ انسان۔۔۔اور کالکی نئے دور کا آدم۔ آدمِ سوم!
ایک دلچسپ اور تھرل سے بھرپور کہانی جس کے انتخاب کی وجہ ایک بار پھر صرف علیم الحق حقی کا نام تھا جنھوں نے اسے اُردو قالب میں بڑی عمدگی سے ڈھالا۔ اُلجھن یہ ہوتی ہے کہ ان کے بیشتر ناولوں میں حوالہ موجود نہیں ہوتا کہ یہ کس کہانی سے ماخوذ ہے۔ اسے ڈھونڈنے کے لیے مجھے تھوڑی محنت کرنی پڑی۔ تجسس بھری کہانیاں پسند کرنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین کہانی ہے۔ یہ انسانی نفسیات، سیاسی گورکھ دھندے، اور نظام کی کم زوریوں کا فائدہ اُٹھاکر عوام کو اپنا دیوانہ کرنے والوں کی داستان ہے۔

View all my reviews

Wednesday, 30 April 2014

The Alchemist : Book Review

کیمیا گری [Kimiya Gari] کیمیا گری [Kimiya Gari] by Paulo Coelho
My rating: 4 of 5 stars

جاگتی آنکھوں سے خواب کون نہیں دیکھتا؟ شاید دنیا کا سب سے بڑا حقیقت پسند انسان بھی خواب دیکھنے اور اُن کی اہمیت سے انکار نہ کرسکے۔ لیکن ہم میں بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں، خواب ہی میں لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسی پر اکتفا کرلیتے ہیں۔ ہم حقیقی زندگی میں، عمر بھر تلخیوں سے اُلجھے رہتے ہیں اور تلخیوں ہی کو اپنی قسمت سمجھ کر خوابوں کو صرف خیالی دنیا تک محدود رکھتے ہیں۔ ہم جو چاہتے ہیں، اُس کی صرف تمنا ہی کرتے ہیں؛ جیسے ہمارے اندر کہیں یہ یقین پہلے سے جاگزیں ہوتا ہے کہ ہم اسے حاصل نہیں کرپائیں گے، لہٰذا اس کے لیے جدوجہد بے کار ہے۔
برازیلی مصنف پاؤلو کوئیلہو کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’دی الکیمسٹ‘‘ (O Alquimista) کا چرچا میں نے چند سال قبل سنا۔ اس سے میں یہ سمجھا کہ حال ہی میں کوئی ناول منظرِ عام پر آیا ہے۔ کئی بار پڑھنے کا سوچا لیکن موقع نہ مل سکا۔ دو دِن قبل اس کا اُردو ترجمہ ہاتھ لگا تو ارادہ کیا کہ اب کی بار اسے مکمل پڑھ ہی لیا جائے۔ یہ ایک لڑکے سن تیاگو کی داستان ہے جو چرواہا تھا۔ اُسے کئی بار خواب میں خزانہ نظر آیا اور جب سن تیاگو نے اُسے حاصل کرنے کے بارے میں سوچا تو جیسے دنیا کی ہر شے اُس کی مدد کرنے لگی۔
’’دی الکیمسٹ‘‘ کی کہانی سادہ مگر اس میں گہرائی بہت ہے۔ یہ زندگی میں کام یابی کا فلسفہ بیان کرتی ہے (اگرچہ اس فلسفے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے)۔ یہ کہانی پیغام دیتی ہے کہ جب انسان جوان ہوتا ہے تو اُسے سب کچھ واضح اور قابلِ حصول نظر آتا ہے۔ انسان جوانی میں خواب دیکھنے سے نہیں ڈرتا، نہ اُن کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے قیمت دینے سے گھبراتا ہے چاہے یہ قیمت کچھ بھی ہو۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے کچھ پُراسرار قوتیں اُسے یقین دِلاتی ہیں کہ اُس کے لیے اپنی منزل تک پہنچنا ناممکن ہے۔۔۔ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب وہ حالات پر قابو کھو بیٹھتا ہے اور اُس کی زندگی پر قدرت کا کنٹرول ہوتا ہے۔۔۔ اس کائنات کا ایک سب سے بڑا سچ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان جو کوئی بھی ہو اور کچھ بھی کرے لیکن جب وہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہوکر رہتا ہے۔۔۔ جب اناان کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کائنات کی ہر شے اُس کے حصول کے لیے انسان کی مدد کرتی ہے۔
پاؤلو کوئیلہو کہتے ہیں کہ ایک زبان ایسی ہے جو عالمگیر ہے۔ دنیا کا ہر شخص دوسرے شخص سے اُس زبان میں کلام کرسکتا ہے۔ دو انسان ایک دوسرے کے لیے اجنبی زبان میں بات کرنے کے باوجود محبت، خوف، پریشانی، اپنائیت، ہر قسم کا احساس ایک دوسرے کو دِلا سکتے ہیں۔ جب ہم کائنات کی روح کو سمجھنے لگتے ہیں تو نظر کے سامنے سے پردے ہٹنے لگتے ہیں۔ ہمیں خدا کی نشانیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ ہمیں مستقبل کے واقعات کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ دنیا کی ہر شے ہم سے کلام کرتی ہے۔ لیکن جب ہم ان نشانیوں کی نظر انداز کرنے لگیں اور کرتے چلے جائیں تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہمیں وہ نشانیاں نظر آنا بند ہوجاتی ہیں۔ ہماری زندگی بے رنگ اور معمول کے دائرے تک محدود ہوجاتی ہے۔
ناول کا اُردو ترجمہ سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس، لاہور نے شائع کیا ہے۔ ناول کے مترجم عمر الغزالی اس ادارے کے سربراہ ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف اہم موضوعات پر تربیتی ورک شاپس کا انعقاد کرتا ہے؛ بلکہ کئی عمدہ کتابیں بھی شائع کرنے کا اعزاز رکھتا ہے، جن میں ’’بچوں کو اقدار کیسے سکھائیں‘‘، ’’ابتدائی تعلیم‘‘، ’’بچوں کی نشوونما‘‘ قابلِ ذکر و مطالعہ ہیں۔

View all my reviews