Announcement!

Announcement! Welcome to IbneZia.com. This blog is not being updated frequently. Presently, I am focusing on freelance projects, like: translation, content-writing, editing and proofreading. See my Portfolio page for my work and contact details. Thank you. Sincerely, Ammar Zia

Thursday, 1 December 2016

The Blacklist - Do We Have All Answers?

ٹی وی سیریز (خصوصاً امریکی) جب وقفے (مثلاً کرسمس بریک) پر جاتی ہیں تو اپنے ناظرین کو ایسے موڑ پر چھوڑ جاتی ہیں کہ ان کا تجسس اپنے عروج پر پہنچ جائے اور وہ اس کی واپسی کے منتظر رہیں۔
لیکن، ایلزبتھ کین اور ریمنڈ ’ریڈ‘ ریڈنگٹن کے ’دی بلیک لسٹ‘ کی بات کیجیے تو اس بار وقفے پر جانے سے پہلے وہ ایسا کوئی موڑ دے کر نہیں گیا ہے۔ این بی سی سے نشر ہونے والے ڈرامے ’’دی بلیک لسٹ‘‘ کے چوتھے سیزن کی آٹھویں قسط 10 نومبر 2016ء کو نشر کی گئی اور اب 5 جنوری 2017ء کو اس کی واپسی ہوگی۔
سیزن کے آغاز سے قبل ایلزبتھ کین کے حوالے سے جو ٹیگ لائن دی گئی تھی کہ ’’تمھارا باپ کون ہے؟‘‘ (Who is your daddy)، بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اس کا جواب مل چکا ہے۔ مرکزی کردار، ایلزبتھ کین کا باپ ہونے کا دعویٰ کرنے والے الیگزینڈر کرک کی حقیقت سامنے آچکی ہے کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا تھا۔ اسی غلط فہمی کے نتیجے میں اس نے ایلزبتھ کو اغوا کرنے اور خود اس کا باپ ہونے کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ لیکن اسے اس غلط فہمی میں مبتلا کس نے کیا تھا؟ کیا خود اسی کی بیوی کیترینا رستووا نے؟ کیونکہ جب کرک نے ریڈ کو ڈی این اے رپورٹ کا حوالہ دیا تو ریڈ کا جواب تھا کہ تم نے اسی پر یقین کیا جو کیترینا روستووا چاہتی تھی۔
اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا ریڈ ہی ایلزبتھ کین کا باپ ہے، جیساکہ ہمیں وقتاً فوقتاً اشارے دیے جاتے رہے ہیں، تو کرک کے سوال پر ریڈ نے اعتراف کیا کہ ہاں، وہی اس کا باپ ہے۔ لیکن اگر ڈراما نگاروں کی خواہش ہو تو وہ اب بھی اس جواب کی دوسری تاویل نکال سکتے ہیں۔ جب ریڈ نے ایلزبتھ کا باپ ہونے کا اعتراف کیا تو وہ حالات ایسے تھے کہ یہ جواب مجبوراً بھی تصور کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ریڈ نے اس سے قبل کرک سے یہ بھی کہا کہ ’’کیا میں وہی کہوں جو تم سننا چاہتے ہو؟‘‘ گویا، چونکہ کرک اپنے شبہات کی من مانی تصدیق چاہتا تھا تو ریڈ نے وہی جواب دیا۔
تو کرسمس بریک سے واپسی پر یہ ڈراما کس رخ پر جائے گا، یہ کہنا خاصا مشکل ہے۔
اس سیزن کے شروع ہونے کے بعد سے ناظرین کی تعداد مسلسل گھٹنے کے باعث اس سیریز پر منسوخی کا خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے۔ تخلیق کار ایک اسپن آف سیریز یعنی اسی سیریز سے اخذ کردہ کہانی پر ایک نئی سیریز ’’ریڈمپشن‘‘ (نجات) بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تاکہ ایک بار پھر ناظرین کی بڑی تعداد کو متوجہ کیا جاسکے۔ اس نئی سیریز میں ٹام کین اور اس کی ’’مبینہ‘‘ ماں اسکاٹی ہارگریو کی کہانی کو بنیاد بنایا جائے گا۔
’’مبینہ‘‘ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک ہم نے صرف ریڈنگٹن ہی کی زبانی سنا ہے کہ وہ ٹام کی ماں ہے۔ ان دونوں کا سامنا تب ہوا تھا جب اسکاٹی کی ٹیم ایلزبتھ کو چھڑانے کی کوششوں میں مدد کر رہی تھی۔ لیکن کیا اسپن آف سیریز میں بھی ٹام کو اپنی حقیقی ماں کی پہچان کرنے کے لیے اتنی ہی مشکلات اٹھانی پڑیں گی جتنی ایلزبتھ کو اپنے حقیقی باپ کی تلاش کے لیے اٹھانی پڑیں؟
امید کرتے ہیں کہ تخلیق کار اور کہانی نگار ہماری دلچسپی سیریز میں برقرار رکھنے اور توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوسکیں۔
a blog about US TV series, The Blacklist - season 4 is on christmas break and will be back in January 2017. But do we have any question still unanswered?

Friday, 28 October 2016

'Team 1' and Expectations from SEE TV


ایکشن تھرل ڈراموں کا شوقین ہونے کے ناتے گزشتہ دنوں جب میں نے سی ٹی وی (See tv) پر ’ٹیم 1‘ نامی ڈرامے کی جھلکیاں دیکھیں تو میں نے سوچا کہ آئندہ دیکھنے والی ٹی وی سیریز کی فہرست میں اسے بھی شامل رکھنا چاہیے۔ میں فی الحال امریکی ڈراما ’دی بلیک لسٹ‘ کا تیسرا سیزن دیکھ رہا ہوں، جبکہ ٹی وی پر ان دنوں چوتھا سیزن نشر ہورہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں چوتھا سیزن ختم ہونے سے پہلے اسے جا لوں گا۔ ویسے بھی افواہ سنی ہے کہ این بی سی والے ناظرین کی تعداد میں مسلسل کمی کے باعث دی بلیک لسٹ کو منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں، لہٰذا اگلی ٹی وی سیریز کی تلاش ضروری تھی۔
اگلے دن میں نے حسبِ عادت ’ٹیم 1‘ کے بارے میں ابتدائی معلومات کی تلاش کا آغاز کیا۔ مجھے اتنا تو اندازہ تھا کہ یہ ترکی ڈراما ہے جسے اردو میں ڈب کرکے نشر کیا جارہا ہے۔ لیکن میں اسے اردو میں دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا سبب میں آگے چل کر بتاؤں گا۔
بہرحال، میں نے سب سے پہلے یہ کھوجنے کی کوشش کی کہ اس ڈرامے کا ماخذ یا ترکی نام کیا ہے اور ٹی وی چینل کی ویب سائٹ کی طرف رجوع کیا۔ سی ٹی وی کی ویب سائٹ خاصی دیدہ زیب ہے لیکن جب میں اس ڈرامے کے صفحے تک پہنچا تو وہاں صرف اس کی اقساط ہی موجود تھیں۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی معلومات نہ مل سکیں۔  پھر میں نے ایک موہوم سی امید کے ساتھ ویکیپیڈیا کا رخ کیا۔ وہاں بھی صرف سی ٹی وی سے متعلق ایک مختصر سا مضمون موجود تھا جس کے مطابق اس چینل نے 2015ء میں اپنی نشریات کا آغاز کیا اور اس کا صدر دفتر استنبول، ترکی میں ہے۔ یہاں سے ناکامی کے بعد، میں نے مذکورہ ڈرامے اور ٹی وی چینل کے نام سے موجود فیس بک صفحات کھنگالے لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ وہ صفحات بعض شوقین افراد اپنے ہی طور پر شوقیہ چلا رہے ہیں۔
پھر مجھے ایک خیال آیا اور وہ یہ کہ ڈرامے کے شروع یا آخر میں اداکاروں کے نام دکھائے جاتے ہیں۔ اگر وہ دیکھ لیے جائیں تو شاید اصل ڈرامے تک پہنچا جاسکے۔ چنانچہ میں نے ڈرامے کے کچھ اقساط کے ابتدائی اور آخری حصے دیکھے۔ سچ کہوں تو بے حد افسوس ہوا۔ ہر قسط کے آخر میں جو نام دکھائے جاتے ہیں، وہ صرف اردو میں ڈھالنے والی (یعنی ترجمہ اور ڈبنگ کرنے والی) ٹیم کے ہیں، اور قسط کے آغاز میں جہاں ترکی فن کاروں کے نام تھے، انھیں سیاہ رنگ سے چھپا دیا گیا ہے۔ یہ صریح ناانصافی محسوس ہوئی۔ اصل تخلیق کاروں کو ان کے کام کا کریڈٹ دینے سے بھلا کیا جاتا ہے؟
قصہ مختصر، مجھے انگریزی ویکیپیڈیا پر ترکی ڈراموں کی ایک طویل فہرست ملی۔ اس فہرست سے میں نے وہ ڈرامے چنے جن کی اقساط سو یا اس سے زائد تھیں کیونکہ سی ٹی وی سے اس ڈرامے کی سو سے زائد اقساط نشر ہوچکی ہیں۔ پھر باری باری ہر ڈرامے کا نام گوگل پر سرچ کیا تو بالآخر میں اصل ڈرامے تک پہنچ ہی گیا جس کا ترکی نام ’ Nizama Adanmış Ruhlar‘ یا ’ekip 1‘ (اردو ترجمہ ’ٹیم 1‘) ہے۔ ڈرامے تک پہنچا تو اس کی اقساط تک پہنچنا مشکل نہیں رہا۔ یوٹیوب پر اصل ڈرامے کی تمام اقساط موجود ہیں۔
بیشتر ترکی ڈراموں کی طرح ’ٹیم 1‘ بھی طویل دورانیے کا ڈراما ہے۔ اصل ڈرامے کی ہر قسط تقریباً پونے دو گھنٹے طویل ہے، سیریز چار سیزن پر مشتمل ہے اور اس کی مجموعی اقساط 121 ہیں۔ اگر ہر قسط اوسطاً سو منٹ (ایک گھنٹہ چالیس منٹ) کی بھی لگائی جائے تو یہ 12 ہزار سے زائد منٹ بنتے ہیں۔ گویا اگر آپ کو یہ ڈراما پسند آجائے تو اچھے خاصے عرصے کے لیے آپ کو کسی دوسرے ڈرامے کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن کیا یہ ڈراما آپ کو پسند آئے گا؟
میرے لیے ایک بنیادی منفی نکتہ اس کی اردو میں ڈبنگ ہے۔ جیسے کہ میں نے پہلے ذکر کیا، میں اس کا اردو ورژن دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ اردو میں ڈھالے گئے مکالمے اگرچہ کرداروں کے ہلتے ہونٹوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ مکالموں کا سیدھا سیدھا ترجمہ کیا گیا ہے،  انھیں اردو قالب میں ڈھالا نہیں گیا ہے۔ بعض اوقات ایک کردار کی کسی بات کے جواب میں دوسرا کردار جو مکالمہ ادا کرتا ہے، وہ زبردستی کی بات لگتی ہے یا اس میں ہمارا مقامی تاثر نہیں آتا۔ پھر یہ کہ ترکی ڈراموں کی اردو ڈبنگ کرنے والی پوری ٹیم کا تعلق پنجاب سے معلوم ہوتا ہے۔ میں نے اب جتنے ترکی ڈراموں کی اردو ڈبنگ دیکھی ہے، تقریباً سبھی کرداروں کا لہجہ پنجابی ہے۔ وہ اردو کی بجائے اگر پنجابی میں ڈبنگ کرتے تو شاید زیادہ جان ڈال سکتے تھے۔ تمام صداکار بغیر تاثرات اور لہجے میں تبدیلی کے مکالمے بولتے چلے جارہے ہیں۔ جہاں انھیں سرگوشی کرنی چاہیے، وہاں بھی وہ معمول کی آواز میں بات کر رہے ہیں اور جہاں انھیں چیخنا چاہیے، وہاں بھی ان کی وہی ٹون ہے۔ جملوں کی ساخت میں جو مصنوعی پن اور کمزوریاں ہیں، ان کا ذکر تو رہنے ہی دیجیے۔
لیکن مجھے یہ ڈراما انگریزی میں ڈب نہیں مل سکا اور نہ ہی ڈرامے کے انگریزی سب ٹائٹلز ملے۔ مجبوراً میں نے اردو ہی میں ابتدائی چند اقساط دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی قسط نے خاصا مایوس کیا۔ حالانکہ کہانی کا آغاز ہی دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملے سے ہوتا ہے۔ اسے سنسنی خیز بنایا جاسکتا تھا۔ شاید کوشش بھی یہی رہی ہوگی، لیکن اس کے برعکس یہ خاصا سست رفتار محسوس ہوا۔ پولیس کی ٹولی ایک گھر میں موجود دہشت گردوں کے صفائی کے لیے صرف دو اہلکاروں کو اندر بھیجتی ہے جبکہ باقی ڈھیروں اہلکار باہر ناکہ بندی کرتے ہیں۔ ایسے میں پوزیشن لیے ہوئے اہلکار کے پاس جب اس کے گھر سے بار بار فون آتا ہے تو وہ فون پر اپنی بیٹی سے بات کرنے لگتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ یا مجھے انگریزی ڈراموں میں ایف بی آئی کی تیز رفتار کارروائیاں دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے؟
میں نے ابھی ہمت نہیں ہاری ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ’ٹیم 1‘ کی مزید اقساط دیکھوں گا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کا (غالباً) واحد ایچ ڈی انٹرٹینمنٹ چینل ہونے اور ترکی سے وابستگی کے ناتے سی ٹی وی ناظرین کو بہتر تفریح فراہم کرسکتا ہے۔ بس اسے خود کو عالمی پائے کا چینل ثابت کرنے کے لیے صرف ٹی وی پر مواد پر نشر کرنے اور انھیں ویڈیو اسٹریمنگ کی ویب سائٹس پر اپلوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کاموں کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔

Friday, 30 September 2016

Google - A Short History

دورِ حاضر میں لفظ ’’گوگل‘‘ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ گفت گو کے سیاق و سباق کے بغیر اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ’’گوگل‘‘ سے کیا مراد ہے؟ گوگل انکارپوریٹڈ ادارہ، گوگل سرچ انجن، یا تلاش کرنا؛ کیوں کہ اکثر لوگ انٹرنیٹ پر کچھ تلاش کرنے کے لیے بھی کہہ دیتے ہیں کہ فلاں چیز گوگل کرلو۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ گوگل پر تلاش کرلو۔ گوگل ایک امریکی کمپنی ہے جو خصوصاً انٹرنیٹ سے متعلقہ خدمات اور مصنوعات فراہم کرتی ہے۔
اگرچہ گوگل کی باقاعدہ بنیاد ۴ ستمبر ۱۹۹۸ کو مینلو پارک، کیلے فورنیا میں رکھی گئی، لیکن اس کی داغ بیل جنوری ۱۹۹۶ میں ڈال دی گئی تھی جب اسٹینفرڈ یونی ورسٹی، کیلے فورنیا کے دو پی ایچ ڈی طالب علموں، لیری پیج اور سرگئے برن نے اسے ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر شروع کیا۔ اُس زمانے میں موجود سرچ انجنوں پر جب کوئی لفظ تلاش کیا جاتا تھا تو وہ یہ دیکھتے کہ کسی ویب صفحے پر یہ لفظ کتنی بار استعمال ہوا ہے۔ نیا سرچ انجن بناتے ہوئے لیری اور سرگئے کے سامنے یہ نظریہ تھا کہ اس لفظ کی تعداد کی بجائے سرچ انجن یہ دیکھے کہ وہ ویب صفحہ کتنا متعلقہ ہے۔ اس کے لیے اُنھوں نے ایک نئی تکنیک ’’پیج رینک‘‘ متعارف کروائی جو ویب سائٹ کے صفحات کی تعداد اور اُن صفحات کی اہمیت کو اس بنیاد پر جانچتی تھی کہ اُنھیں کتنی بار دوسری ویب سائٹوں سے مربوط کیا گیا ہے۔
ابتدا میں اُن کا سرچ انجن اسٹینفرڈ یونی ورسٹی ہی کے ڈومین پر موجود رہا۔ بعد ازاں، ۱۵ ستمبر ۱۹۹۷ کو گوگل کا ڈومین، اور ۴ ستمبر ۱۹۹۸ کو کمپنی رجسٹر کروائی گئی۔ آج جس کمپنی کا جال دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے، اُس کی بنیاد مینلو پارک، کیلے فورنیا کے ایک گیراج میں رکھی گئی تھی۔
۱۹۹۹ کے اوائل میں دونوں بانیوں کو گوگل کا قیام بوجھ محسوس ہونے لگا، کیوں کہ اُن کے وقت کا بیشتر حصہ اُس پر صَرف ہو جاتا تھا، اور یہ اُن کی تعلیمی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹ بن رہا تھا۔ چناں چہ وہ ایکسائٹ (Excite) کے سی۔ای۔او کے پاس گئے اور اُسے دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل خریدنے کی پیش کش کی، لیکن اُس نے نہ صرف اُن کی یہ پیش کش مسترد کر دی، بل کہ ایکسائٹ کے ایک سرمایہ دار، ونود  کھوسلا، کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جس نے لیری اور سرگئے سے ساڑھے سات لاکھ میں سودا طے کرنے کی کوشش کی تھی۔
۱۹ اگست ۲۰۰۴ کو پہلی بار گوگل کے آئی پی او (initial public offering) انجام پانے کے بعد لیری پیج، سرگئے برن، اور ایرک شمٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ بیس سال (۲۰۲۴) تک اکٹھے گوگل میں کام کریں گے۔ اسی موقع پر ان تینوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ سالانہ صرف ایک ڈالر تنخواہ لیا کریں گے؛ حال آں کہ اس سے پہلے ایرک سالانہ ڈھائی لاکھ ڈالر، جب کہ لیری اور سرگئے سالانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر تنخواہ وصول کر رہے تھے۔
آہستہ آہستہ گوگل نے دیگر اداروں کو خرید کر اپنا حجم بڑھانے کی طرف قدم بڑھایا۔ ۲۰۰۴ میں گوگل نے ’کی ہول انکارپوریٹڈ‘ کو خرید لیا، جس نے ’ارتھ ویور‘ (earth viewer) نامی ایک سوفٹ ویئر تخلیق کیا تھا جو زمین کا سہ رخی منظر دکھاتا تھا۔ گوگل نے اسے ۲۰۰۵ میں گوگل ارتھ کا نام دے کر جاری کیا۔ اکتوبر ۲۰۰۶ میں گوگل نے ویڈیو شیئرنگ کی مشہور و معروف ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ خریدنے کا اعلان کیا۔ مختلف کمپنیاں خریدنے کے ساتھ ساتھ گوگل نے کئی اداروں کے ساتھ شراکت بھی کی، جن میں ناسا، مائکروسوفٹ، نوکیا، ایریکسن، وغیرہا شامل ہیں۔
یکم اپریل ۲۰۰۴ کو گوگل نے مفت ای میل سروس ’جی میل‘ کا آغاز کیا، اور جب دیگر ای میل سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنے صارفین کو دو سے چار ایم بی کا ان باکس فراہم کرتی تھیں، گوگل نے ایک جی بی  کا ان باکس فراہم کرکے تہلکہ مچا دیا۔ گوگل وقتاً فوقتاً مختلف خدمات و مصنوعات جاری کرتا رہا، جن میں سے چند مشہور اور فعال یہ ہیں:
  • گوگل تلاش
  • جی میل
  • گوگل ڈرائیو
  • اینڈروئیڈ (موبائل فون  آپریٹنگ سسٹم)
  • کروم (ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم)
  • گوگل کروم ویب براؤزر
  • گوگل پلس
  • گوگل ٹرانسلیٹ
  • گوگل ڈوکس
  • ہینگ آؤٹ
  • گوگل کیلنڈر
  • بلاگر (بلاگ اسپاٹ)
  • گوگل بکس
  • گوگل والٹ
  • گوگل پلے اسٹور

انٹرنیٹ سے متعلقہ خدمات اور دیگر مصنوعات فراہم کرنے کے علاوہ گوگل اب  آلات کی فراہمی کے میدان میں بھی قدم جما چکا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:
  • نیکسس فون
  • نیکسس ٹیبلٹ
  • کروم بکس
  • کروم کاسٹ

ایسی کمپنی جس کے بانی ایک وقت میں اُس کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنا چاہتے تھے، دس سال کے عرصے میں اس مقام پر پہنچ گئی کہ اس میں ملازمت کا حصول  بھی باعثِ افتخار سمجھا جانے لگا۔ بلاشبہ یہ انتھک محنت، اور جوش و ولولے کا واضح ثبوت ہے۔

Thursday, 12 May 2016

Senior


’’جناب، آپ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’او بھائی، خیال سے، ’وہ‘ سینئر ہیں۔‘‘
’’سر، آپ نے فلاں فلاں الزام لگایا، آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟‘‘
’’ارے، ’وہ‘ سینئر ہیں۔‘‘
’’ویسے کیا کمی تھی کہ آپ بھی ایسی حرکتوں پر اتر آئے؟‘‘
’’سب باتیں ایک طرف، لیکن ’وہ‘ سینئر ہیں۔ کم از کم اسی بات کا خیال کرلو۔‘‘

ایسے سینئروں اور اُن سینئروں کی بتیوں سے ہمیں روزمرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ سینئر تو خیر سینئر ہوتے ہیں، لیکن سینئروں کی بتیاں وہ ہوتی ہیں جو خود سینئر نہیں ہوتیں لیکن اُن میں سینئر بننے کی حسرت ہوتی ہے، لہٰذا وہ سینئروں کی سنیارٹی کی بتی بناکر اُس سے استفادہ کرتی ہیں۔
ہر شعبے کی طرح بلاگنگ میں بھی سینئر ہونے کے بے شمار فوائد ہیں۔ لیکن فوائد گنوانے سے کوئی حاصل نہیں کہ سبھی ان سے واقف ہیں۔ اصل راز یہ ہے کہ سینئر بلاگر کیسے بنا جائے۔ ہم تو الحمد للہ دس سال کی بلاگنگ کے بعد بھی سینئر نہیں بن سکے، لیکن ہاں ان دس سالوں میں بہت سوں کو سینئر بنتے دیکھا۔ تو تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کچھ عرض کرتے ہیں۔ مشورہ اگرچہ مفت ہے لیکن اس کے نتائج کی ذمہ داری ہم پر ہرگز نہ ہوگی۔
1۔ تاریخ سے رشتہ جوڑیں۔
سب کو بتائیں کہ آپ بہت قدیم بلاگر ہیں۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں، اُردو بلاگنگ کے ابتدائی پلیٹ فارمز اب نابود ہوچکے ہیں، ان کی کوئی تاریخ موجود نہیں۔ کسی بھی ایسے بلاگنگ پلیٹ فارم پر بلاگ بنانے کا دعویٰ کرلیں کہ 1857ء میں فلاں فلاں نام سے بلاگ بنایا تھا۔
2۔ ہر بات میں ٹانگ اڑائیں۔
جہاں اُردو بلاگنگ سے متعلق کوئی بات ہو، پہنچ جائیں اور تبصرہ کرنا اپنا فرضِ عین سمجھیں۔ جن لوگوں کا اُردو بلاگنگ سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ کبھی اُردو بلاگنگ کی بات کر بیٹھیں تو وہاں سب سے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں اور خود کو ایسے ظاہر کریں کہ اُردو بلاگنگ کے کرتا دھرتا آپ ہی ہیں، اور آپ ہی کے وجودِ ’’زن‘‘ ہے تصویرِ بلاگنگ میں رنگ۔
3۔ خود کو قائد سمجھیں۔
قائدِ اعظم سمجھنا مشکل ہو تو قائدِ تحریک کی مثال بھی موجود ہے۔ ہر معاملے کی قیادت کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں۔ جس تقریب یا معاملے میں قیادت نہ مل سکے، اسے ملک دشمن، دین بیزار، سامراجی ایجنڈا، صیہونی سازش اور بکواس قرار دیں۔ فاروق درویش بن جائیں۔ جس تقریب میں آپ کی خاطر خواہ پذیرائی نہ ہو اسے فلاپ قرار دیں۔ بہتر ہے کہ ایسی تقاریب ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے باہر نکل جائیں تاکہ بعد میں کہہ سکیں کہ میں تو احتجاجاً تقریب ہی ادھوری چھوڑ آیا تھا۔
4۔ ساتھ دیں اور چھوڑ دیں۔
جب کوئی نیا کام کرنے لگے تو آپ اس کے ساتھ کی ہامی بھریں۔ جب وہ آگے بڑھتا محسوس ہو تو ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے چیلوں کے ذریعے اُس کی خوب ٹانگ کھینچیں۔ بات بے بات اعتراضات کریں۔ کسی کو کامیابی کی مبارک باد دینے کی مجبوری آن پڑے تو منفی پہلو کی وضاحت سے نہ چوکیں۔ اور کچھ نہ ملے تو یہی کہہ دیں کہ غیروں سے تعاون لینے کی بجائے آپ ہی سے رابطہ کرلیا گیا ہوتا۔ سامنے والے کا دامن صاف ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں میں نقص تلاش کریں۔ (’’ریما کے گھر کے پاس ایک شخص کو کتے نے کاٹ لیا‘‘ اور ’’عمران خان کے دوست کی اہلیہ کا نام پاناما لیکس میں آگیا‘‘ جیسی مثالیں پیشِ نظر رکھیں۔)
5۔ الزامات لگائیں۔
تمام بڑے لوگ الزامات لگاتے ہیں۔ یہ شہرت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ آپ بھی الزامات لگائیں۔ مخالفین کو سرِ بازار ننگا کردیں۔ جب کچھ دنوں تک ماحول پُر امن محسوس ہو، کوئی شرلی چھوڑ دیں۔ کبھی ایسی کسی بات کا دعویٰ کردیں جو ہوئی ہی نہ ہو اور کبھی کسی وقوع پذیر بات سے مکر جائیں اور سامنے والے کو جھوٹا، مکار، فریبی اور خفیہ ایجنڈے پر کارفرما قرار دیں۔ دلائل نہ بھی ہوں تو ایسے نڈر بنے رہیں جیسے’ئل‘ کے بغیر لفظ ’دلائل‘۔ بس، الزامات لگائیں۔
6۔ الزامات واپس لے لیں۔
الزامات لگالیے؟ اب الزامات واپس لے لیں۔ جن الزامات میں آپ کے پاس دلائل ہوں، وہ الزامات تمام تر دلائل پیش کرنے کے بعد واپس لیں تاکہ مخالف اچھی طرح رسوا ہوجائے۔ جہاں آپ کے پاس دلائل اور ثبوت کی کمی ہو، وہاں اچھی طرح گند پھیلانے کے بعد اجتماعی مفادات کے پیشِ نظر الزامات واپس لے لیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات تو گھر کرجائیں۔ الزامات واپس لینے سے واضح ہوگا کہ آپ کتنے بڑے ’وہ‘ ہیں۔ ارے سینئر!
وقتاً فوقتاً لوگوں پر واضح کرتے رہیں کہ آپ اُردو بلاگنگ کے چاچے مامے نہیں ہیں، یہ کہنے سے لوگوں کے ذہن میں یہ خیال زور پکڑے گا کہ دراصل آپ ہی اُردو بلاگنگ کے چاچے مامے ہیں۔

فی الحال ان چھ مشوروں کو غنیمت جانیے۔ ہاں، بس یہ یاد رکھیے کہ وہ زمانے لد گئے جب سینئروں کی ہر بھلی بری بات اُن کی سنیارٹی کی بنیاد پر برداشت کرلی جاتی تھی۔ اب کی نسل منافق نہیں ہے، بڑی کھری ہے۔ اچھی بات پر ساتھ پائیں گے تو بری بات پر ایسا جواب پائیں گے کہ بتیاں سلگ جائیں گی۔

Monday, 14 December 2015

My Karachi - Intro

صوبۂ سندھ کا دارالحکومت، پاکستان کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا شہر، دنیا کے دس بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں سے ایک، آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سرِ فہرست شہروں میں سے ایک، یہ ہے کراچی شہر!
By Nomi887 (Own work) [CC BY-SA 3.0], via Wikimedia Commons
کراچی کی آبادی دو کروڑ چالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، یعنی بہت جلد کراچی شہر ڈھائی کروڑ انسانوں کا مسکن ہوگا۔ ترقی یافتہ، صنعتوں کا مرکز، بندرگاہ کا حامل اور نتیجتاً روزگار کی کثرت ہونے کے باعث یہاں شہرکاری (urbanization) کا عمل خاصا تیز رہا ہے۔ شہرکاری کے باعث وسائل محدود ہوتے چلے گئے اور مسائل بڑھتے چلے گئے۔ یہ صورتحال اب تک برقرار ہے اور آنے والے کئی سالوں تک اس میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آتے۔ وجہ یہ ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ مسائل گمبھیر ہوتے چلے گئے، نیز اب تک متعلقہ حکام اور اداروں میں منصوبہ بندی اور ارادے کا فقدان نظر آتا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں سے، کراچی کی سڑکوں پر سفر کے دوران میرے ذہن میں یہ خیال ضرور کلبلاتا ہے کہ جو مسائل نظر آرہے ہیں انھیں تحریر میں لاؤں۔ شکستہ حال سڑکیں، پانی یا صاف پانی کی عدم فراہمی، ذرائع نقل و حمل خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ کی حالتِ زار، اشیائے ضرورت کی دستیابی، بجلی اور گیس کی آنکھ مچولی، یہ تمام خالصتاً عام آدمی کے مسائل ہیں۔ ان بنیادی مسائل سے آگے بڑھیں تو فرقہ واریت، لسانیت، امن و امان سے متعلقہ مسائل بھی کراچی شہر میں موجود ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اب تک ان مسائل کے حل کے لیے کیا گیا اور مستقبل میں کب اور کیسے بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
سیاسی جماعتوں اور حکومتِ وقت کا کردار اگرچہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم میرا مقصد الزام تراشی نہیں، اس لیے کوشش رہے گی کہ اس پہلو سے دور ہی رہوں اور اصل مدعا پیش کرنے پر توجہ مرکوز رکھوں۔
اس سلسلے کے تحت شائع ہونے والی تحاریر علمی یا تحقیقی نوعیت کی نہیں ہوں گی، بلکہ یہ کراچی کے ایک شہری کی حیثیت سے میرے مشاہدے اور خیالات کا بیان ہوگا۔