'Bardasht Kar...'

پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے K.E.S.C کا رابطہ نمبر 118 صرف PTCL فون سے ملایا جاسکتا ہے جب کہ PTCL فون اب گھروں میں کم ہی پایا جاتا ہے۔ موبائل سے اس نمبر تک رسائی نہیں۔ اور آپ کے پاس اگر PTCL ہے بھی تو اوّل آپ آدھ گھنٹا فون ملاتے رہیں، مجال ہے جو دوسری طرف سے اُٹھانے کی زحمت کی جائے۔ پھر اگر دوسری طرف سے جواب دے بھی دیا جائے تو آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے آپ کو ٹال دینا ہے کہ جی، فلاں فلاں خرابی ہے، کام کررہے ہیں، دو گھنٹے لگیں گے۔ گویا دن میں معمول کے مطابق چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ الگ اور پھر یہ دو، تین گھنٹے کا بونس بھی۔ آپ چیخیں، چلائیں، شور مچائیں، روئیں، جو چاہیں کریں، لیکن بجلی نہیں آنے کی جب تک احباب نہ چاہیں۔
آپ کی ٹیلے فون لائن خراب ہے، شور سنائی دیتا ہے، دوسری طرف سے کسی کی آواز ایسے سنائی دیتی ہے جیسے آپ ہواؤں کے دوش پر اُڑتے ہوئے بات چیت کررہے ہوں۔ آپ شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ کرکے دکھائیے۔ کس سے کریں گے؟ ٹیلے فون بل پر موجود ہر نمبر ملالیجیے، یا مصروف ملے گا یا جواباً آپ کو بہت خوب صورتی سے شائستہ انداز میں ایک عدد بہانے سے ٹال دیا جائے گا لیکن مسئلہ جوں کا توں موجود رہے گا۔
آپ کے ہاں بجلی/ گیس کا بِل بہت زیادہ آرہا ہے۔ آپ پریشان ہیں کہ اتنا کیسے؟ لیکن شکایت کس سے کیجیے؟ کوئی سننے والا موجود جو نہیں۔ K.E.S.C کے دفتر چلے جائیے، ایک میز سے دوسری میز، دوسری سے تیسری، تیسری سے چوتھی اور پھر جب آخری میز پر پہنچیں تو آپ کہا جائے گا کہ آپ پہلی منزل پر چلے جائیں۔ پہلی منزل پر بھی ایسی ہی کاروائی۔ کسی کو ترس آگیا تو ٹھیک ورنہ جتنی منزلیں ہوں گی، سب کی سیر کرائی جائے گی۔ ترس آنے سے مراد یہ نہیں کہ کوئی اللہ کا بندا جھٹ پٹ آپ کا کام کردے گا۔ ارے نہیں جناب، ہرگز نہیں، اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ترس کھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا کھانچا بنانے کا ارادہ کرلے۔ کچھ دو کچھ لو کے اصول پر بات چیت کرنے کو صاحب کا من چاہے تو مبارک۔
آپ کے گھر ٹیلے ویژن ہے تو یقیناً ٹی۔وی کیبل لگائی ہوئی ہوگی کیوں کہ اکثریت PTV Home اور PTV News اور ATV جیسے تھکے ہوئے چینلز دیکھنا نہیں چاہتی۔ اب آپ کے پاس 80 سے کچھ زیادہ ٹیلے ویژن چینلز آرہے ہیں۔ آپ ہر ماہ اس سہولت کے تین سو روپے ادا کرتے ہیں۔ اچانک ہوا یہ کہ آپ کے کنکشن میں خرابی آگئی۔ 80 میں سے 8 چینلز بمشکل صاف آرہے ہیں باقیوں پر مکھیاں بھنبھنارہی ہیں۔ آپ کیبل آپریٹر کو فون کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں کہ بھائی، یہ مسئلہ ہوگیا ہے۔ وہ کہتا ہے، اچھا میں آکر دیکھتا ہوں۔ وہ آنے میں تین/ چار دن لگادیتا ہے۔ آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ آتا ہے، دیکھ کر کہتا ہے کہ کنکشن تو ٹھیک ہے۔ لگتا ہے، تار خراب ہوگئی ہے لہٰذا تار اچھی والی لے آئیں۔ آپ سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اگلے ہی دن مہنگے داموں ایک معیاری تار کا بندوبست کردیتے ہیں لیکن اب جو اس کو بلانا چاہتے ہیں تو وہ صاحب کبھی فون بند کردیتے ہیں تو کبھی بہانا بناکر ٹال جاتے ہیں۔ پورا مہینا اسی طرح گزر جاتا ہے اور پھر اچانک سے آپ کے پاس سارے چینلز صاف آنے لگتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد موصوف کیبل آپریٹر آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ان سے عرض کرتے ہیں کہ صاحب، جب شکایت کررہا تھا تو آپ نے کان نہیں دھرے، اب پیسے کس بات کے جب کہ آپ کی خدمات ہی نہیں ملیں؟ جواب ملتا ہے کہ یہ تو بالکل فضول کی بات ہے، پیسے تو آپ کو دینے ہی ہوں گے۔ آپ کہتے ہیں، میں تو آدھی رقم دوں گا حالانکہ حق دار تو آپ اس کے بھی نہیں ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ رقم تو پوری ہی دینی پڑے گی۔ آپ کا انکار سن کر وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے جی، نہ دیجیے اور پھر جاکر آپ کا کنکشن منقطع کردیتے ہیں۔ کرسکتے ہیں کسی سے شکایت؟ کرکے دکھائیے؟ ایک علاقے میں ایک کیبل آپریٹر کی موجودگی میں چوں کہ دوسرا آپریٹر خدمات فراہم نہیں کرتا اس لیے مونوپلی ہونے کے باعث تو ان کو پروا نہیں۔ کنکشن کروانا ہے تو کرواؤ نہیں تو بھاڑ میں جاؤ، اُن کے پاس اتنے لوگوں کے کنکشنز ہیں کہ ایک آپ کے جانے سے اُنہیں فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپ خوش رہیے۔
آپ کے پاس کمپیوٹر ہے، آپ نے قریبی انٹرنیٹ کیبل کی خدمت فراہم کرنے والے ایک صاحب سے ماہانہ چھ سو روپے پر کنکشن کروایا (ویسے ہمارے ہاں کنکشن لگوایا جاتا ہے)۔ آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں کسی تعلیمی غرض سے یا انٹرنیٹ پر روزی تلاش کرتے ہیں۔ کبھی آپ کی انٹرنیٹ کچھوے کی رفتار سے چلتا ہے اور کبھی کچھوے کی طرح خول میں منھ دے کر سوجاتا ہے۔ آپ ہزار ٹھوکیے، ایسے ہوگیا جیسے مُردا۔ آپ آپریٹر کو فون لگاتے ہیں، وہ جواباً عرض کرتا ہے کہ جناب، اس طرف کی بجلی گئی ہوئی ہے۔ آپ کیا کرسکتے ہیں؟ پاکستان میں رہتے ہیں، بجلی سب کے ہاں جاتی ہے، اُس کے ہاں کوئی انوکھی نہیں گئی۔ اب کیا کریں کہ وہ اس علاقے میں بیٹھا ہے کہ جب اس کے بجلی ہوتی ہے تو آپ کے نہیں ہوتی اور جب آپ کے ہاں ہوتی ہے تو اس کے ہاں غایب۔ بے چارے کا کیا قصور۔ چلو، اچھا آپریٹر ہے، اس کے ہاں جنریٹر یا U.P.S لگا ہوا ہے، بجلی جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ پھر بھی انٹرنیٹ نہیں چل رہا، آپ نے فون گھمایا تو بتایا گیا کہ پیچھے کہیں تار ٹوٹ گئی ہے، کام کیا جارہا ہے۔ ارے غصہ کیوں ہوتے ہیں؟ میاں آپ بھی یہیں کے باسی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ تاروں کے گچھے کیسے آپ کے سروں پر سایا کیے رہتے ہیں۔ کون سا تار بجلی کا ہے، کون سا انٹرنیٹ کا اور کون سا کیبل ٹی۔وی کا، آپ یہ اندازا ہی نہیں لگاسکتے۔ اب کہیں کوئی تار ٹوٹ گیا تو اوّل اسے ڈھونڈا جائے گا، پھر اس کو صحیح کرنے کا کام ہوگا، یوں آپ کا انٹرنیٹ مرے سے مرے، دو دن میں جاکر انگڑائی لے گا اور خراماں خراماں چلے گا۔
دو مہینے بعد تنگ آکر آپ نے کیبل انٹرنیٹ پر چار حرف بھیجے، سوچا PTCL کا براڈبینڈ انٹرنیٹ اچھا چل رہا ہے، کیوں نہ وہی استعمال کیا جائے۔ آپ نے اس کی طرف رجوع کیا۔ آپ کو PTCL کی طرف سے بِل ملنا شروع ہوگیا لیکن تار اب تک نہیں لگائی گئی۔ یہ کیسا غضب ہے! آپ کو شکایت کرنی ہے؟ کس سے کریں گے؟ اتصالات کمپنی کے ڈائریکٹر سے یا عزت مآب زرداری صاحب سے؟ تین/ چار ماہ تک آپ کو بِل موصول ہوتا رہا، تب کہیں جاکر آپ کو تار فراہم کی گئی۔ لیکن نجانے تار کے جوڑ میں کہاں خرابی ہے۔ براؤزنگ کررہے ہوں تو صفحہ کھلتے کھلتے دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ کی طرح بھول جاتا ہے کہ وہ کر کیا رہا تھا۔ آپ اس پر دو تین بار Refresh کا مولا بخش مارتے ہیں، مختلف براؤزرز کے ٹھڈے استعمال کرتے ہیں، تب جاکر براؤزنگ ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی صاف بند۔۔۔ چلنے سے انکاری۔۔۔ آپ شکایت کرنے کی سعیِ لاحاصل کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خبر ملتی ہے کہ فائبر آپٹک میں خرابی آگئی ہے، درست کرنے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔ اب آپ PTCL کو فون گھماکر شکایت کرنے کی حماقت کریں گے تو ظاہر ہے، دوسری طرف سے کبھی جواب نہیں ملے گا۔ صاحب، آپ کو اطلاع دینے کے لیے تو ہر ہر ٹی۔وی چینلز پر خبر دکھائی گئی، اخبار میں سیاہی جمائی گئی (سرخی کا زمانہ کہاں، عورتوں سے بچتی ہی نہیں)، اب ہر طرح سے آپ کو مطلع کردیا گیا تو آپ کاہے کو فون کی زحمت کرتے ہیں؟
بڑے بے آبرو ہوکر تِرے کوچے سے ہم نکلے۔ تعجب ہے، آپ میں پاکستانی ہوکر برداشت نہیں؟ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ وطین کے وائی میکس یا وائی فائی انٹرنیٹ کی طرف رجوع کریں گے؟ کرلیجیے۔ کرلیا؟ خوب!! واہ، یہ تو بہت اچھا رہا۔ رفتار بھی خاصی ہے۔ پھر ایک دن صبح جب آپ انٹرنیٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے سامنے ایک صفحہ آتا ہے کہ وطین ساری ڈیوائسز کا ریکارڈ اپڈیٹ کررہا ہے لہٰذا آپ بذریعہ ای۔میل یا فون اپنی ڈیوائس پر درج کوڈ ہمیں بتائیں۔ اللہ کے بندو، جب ڈیوائس دی تھی، تب ریکارڈ رکھا تو تھا، اب کیا ہوا؟ ارے جناب، پاکستان ہے، کوئی بعید نہیں کہ اُن کے کمپیوٹرز سے سارا ریکارڈ اُڑن چھو ہوگیا ہو۔ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب آپ ای۔میل کرکے تو بتانے سے رہے کیوں کہ جب تک آپ کی ڈیوائس کا ریکارڈ اپڈیٹ نہیں ہوتا، آپ کی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ فون کرنا ہی واحد ذریعہ ہے۔ آپ فون کرتے ہیں، مصروف ہے۔ پھر کرتے ہیں، مصروف۔۔۔ صاحبو! جب پوری وطین کمیونٹی کا انٹرنیٹ تم نے یہ کہہ کر بند کردیا کہ ریکارڈ اپڈیٹ کرواؤ اور پھر ساری دنیا یہ کوشش کرے گی تو تمہارا واحد فون نمبر مصروف ہی تو رہے گا (اُلّو کے۔۔۔۔)!!! آپ فون کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، آدھ گھنٹے تک ملاتے ہیں تب جاکر کہیں کنیکٹ ہوتا ہے، ٹیلے فون آپریٹر سے نہیں، کمپیوٹر سے۔۔ پھر وہ کمپیوٹر آپ کو سہانی دھنیں سناتا ہے جو غصے کے سبب آپ کے کانوں میں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی سوتے آدمی کے سر پر بے سرے انداز میں ڈرم بجایا جانے لگے یا اس کے کانوں میں بنا سیکھے بانسری بجائی جائے۔ کمپیوٹر آپ کو پندرہ منٹ انتظار کروانے کے بعد کسٹمر سینٹر کے آپریٹر سے آپ کی کال کنیکٹ کرتا ہے۔ آپ اسے اپنی ڈیوائس کی معلومات فراہم کرتے ہیں تو وہ آپ کو مژدۂ جانفزا سناتا ہے کہ صرف اور صرف، جی ہاں صرف اور صرف چوبیس گھنٹے میں آپ کا انٹرنیٹ بحال ہوجائے گا۔ شکایت کریں گے؟ کس سے؟ U.A.E میں وطین کے ہیڈکوارٹر سے؟ چچ چچ۔۔۔ آپ چوبیس گھنٹے گزرنے کا انتظار یوں کرتے ہیں کہ ہر کچھ دیر بعد براؤزر کھولتے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ چوبیس گھنٹے سے پہلے بحال ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ چوبیس گھنٹے کہاں، اڑتالیس گھنٹے گزر جاتے ہیں، انٹرنیٹ جوں کا توں مُردا۔ آپ پھر وطین کے کسٹمر (کئیر؟؟؟) سینٹر پر نمائندے سے بات کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے آپ کو حسبِ سابق آدھ گھنٹے سے زیادہ بار بار ٹیلے فون نمبر ریڈائل کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر رابطہ ہوتا ہے۔ آپ اس کو برا بھلا کہتے ہیں، زبان کی نوک پر رُکے سنسر کے قابل الفاظ پھسلنے لگتے ہیں، لاوا جو اب تک پک رہا تھا، اب اُبل پڑتا ہے لیکن دوسری طرف وہ اسی تحمل مزاجی سے آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا اور وہ آپ کی درخواست دوبارہ آگے بھیج رہا ہے، جلد مسئلہ حل ہوجائے گا۔ لیکن پھر بھی نہیں ہوتا۔ کچھ گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کی جاتی ہے۔ اب کی بار ان کا نمایندہ آپ کو کہتا ہے کہ آپ کی درخواست تو آگے بھیجی ہی نہیں گئی ہے لیکن وہ بھیج رہا ہے، ساتھ ہی آپ کا انٹرنیٹ آدھ گھنٹے میں لاگ۔ان صفحے کے بنا ڈائرکٹ کنیکٹ پر ہوجائے گا۔ آپ کو اس کی بات پر یقین نہیں آتا، دل میں ہزار گالیاں دیتے ہیں لیکن اس کی بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ آپ کی ڈیوائس کی معلومات پر کام تو جب ہوگا سو ہوگا، لیکن اس نے آپ کی ڈیوائس کو ڈائرکٹ کنیکٹ کردیا۔ آپ سوچتے ہیں کہ اس کو دعا دوں یا پچھلے والوں کو بد دعا؟
اسی کشمکش میں آپ کی زندگی گزرتی چلی جارہی ہے اور آپ کو ہر سروس پرووائڈر کا نمائندہ جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ تو بس خوش بو دار کاغذ میں لپٹی ایک ہی چیز ہے جس کو کھولنے پر آپ کے سامنے جو ہوگا وہ دراصل یہاں گاڑیوں کے پیچھے لکھے ہوئے ایک جملے سے بہ آسانی سمجھی جاسکتا ہے کہ
’’تپڑ ہے تو پاس کر، ورنہ برداشت کر‘‘

اتنی طویل تحریر پڑھ کر تھک گئے؟ کوئی بات نہیں۔ کیا یہ کنزیومر ازم کے کمالات ہیں۔ چلیں فائٹ کلب دیکھیے، میں نے بھی دو دن پہلے دیکھی ہے۔

Comments

  1. اوئے ہوئے پہلی مرتبہ کہیں پہلا کمنٹ کرنے کا اتفاق ہوا۔۔۔
    انٹرنیٹ والی داستان کو میں آجکل برداشت کر رہا ہوں۔ چار دِن سے نیٹ نہیں آیا۔ اور ابھی خود ہی اپنی مدد آپکے تحت مسئلہ حل ہوا ہے۔۔۔ پی ٹی سی ایل والوں کو تو کال کر کر کے بُرا حال ہو گیا۔۔۔ :-|

    ReplyDelete
  2. میں بھی کئی دفعہ ایسی صورتحال سے دوچار ہو کر اپنا دل جلا چکا ہوں مگر اس کے بعد آپریٹر کی بے عزتی تہذیب کے کرنے کا حق میں محفوظ رکھتا ہوں اور جس کا استعمال میں بہرحال کرتا ہوں

    ReplyDelete
  3. وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ساتھ فائٹ کلب۔ :hunh:
    یخ خ خ خ
    عجیب ذہنی بیمار قسم کی مووی ہے۔

    ReplyDelete
  4. ہاہاہا ۔۔۔۔۔۔شکوہ شکایت سے کچھ نہیں ھوا۔تو ہوسٹ لکھنے سے کیا ھو گا۔
    برداشت کریں جی برداشت :D

    ReplyDelete
  5. سر جی۔۔۔
    لگتا ہے کہ آپ بدلہ اپنے قارئین سے لے رہے ہیں۔
    اتنا چھوٹا فونٹ۔ ناک سکرین سے لگا کر پڑھا ہے۔ chxmx


    اور آپ کے دکھوں کے مداوے کے لئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ۔۔۔
    صبر میرے بھائی صبر۔ :0

    ReplyDelete
  6. موبائل فون سے 021118 ملائیں تو کے ای ایس سی کے کال سینٹر میں کال لگ جاتی ہے۔ ایک بہتری جو پچھلے چند سالوں میں آئی ہے وہ ہے شکایت سننے کی۔ اب کال سینٹرز لگا دئے گئے ہیں اور آپ کی شکایت تو کم از کم سن ہی لی جاتی ہے بھلے چاہے ایکشن ہو یا نہ ہو۔

    پی ٹی سی ایل کی کسٹمر سروس سے مجھے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ مگر جب میری بہن کے گھر انٹرنیٹ لگا تو پتہ چلا پی ٹی سی ایل والوں کا عمومی رویہ کیا ہے۔

    ReplyDelete
  7. وطین کا نیٹ میرے گھر اور آفس میں ہے chxmx گھر کا نیٹ ایک ہفتے مکمل بند رہا آفس کا پانچ دن بند رہا۔ :( حیرت کی بات یہ ہے کہ وطین کےفرنچائز کے ملازمین کو بھی نہیں پتہ تھا کہ کس وجہ سے انیٹرنیٹ بند ہوا ہے ۔ :-|

    ReplyDelete
  8. یقینا برداشت کا مادہ بہت بڑھ چکا ہو گا ۔ آپ نے تار سے چلنے والی تمام سہولیات کا پوسٹ مارٹم کر دیا ۔ اب جو تیل سے چلنے والی ہمارا حشر نشر کرتی ہے وہ رہ گئی ۔

    ReplyDelete
  9. بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ :)

    ReplyDelete
  10. کیا کریں جناب، ہمیں اس رویے پر نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور کردیا جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  11. یہ بھی دل کے پھپھولے پھوڑنے کا ایک طریقہ ہے۔ :P

    ReplyDelete
  12. ہاہاہا۔۔۔ ہماری قوم کو بھی تو ذہنی مریض بنادیا گیا ہے۔ :wink:

    ReplyDelete
  13. میں معذرت خواہ ہوں عثمان۔ میری مصروفیات تکنیکی معاملات کو چھیڑنے کی مہلت نہیں دے رہی۔ آپ براؤزر کا نظارا زوم کرلیتے۔ میں جلد ہی اسے ٹھیک کرتا ہوں۔

    ReplyDelete
  14. K.E.S.C کے کال سینٹرز کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہوگا اور اس کا کچھ حد تک اندازا ہوتا بھی ہے لیکن نارتھ کراچی کی طرف اب بھی یہ شکایت باقی ہے کہ آپ کی کال نہیں لی جاتی۔

    ReplyDelete
  15. جی ہاں، ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک بار پہلے بھی ہوا تھا تو وطین والے یہ کہہ کر ٹال رہے تھے کہ ہمارے پاس سے تو ٹھیک ہے، آپ کے پاس سے کوئی گڑبڑ ہوگی۔ پھر فون پر انہوں نے نیٹ ورکنگ کی ترتیبات بھی configure کروائیں ہماری تسلی کے لیے۔ چار پانچ دن بعد جب کھلا تو پتا چلا کہ صرف ہمارا نہیں، باقی لوگوں کا بھی بند تھا۔ :devil:

    ReplyDelete
  16. اس کا ذکر باقی احباب پر چھوڑ دیا کیوں کہ اس تکلیف کا ابھی مجھے اتنا اندازا نہیں ہے۔

    ReplyDelete
  17. اے کے ملک19 July 2010 at 02:00

    اے وطن میں تیری بربادی پہ چپ کیوں کر رہوں
    لٹ چکا ہے جو چمن اُسکو چمن کیسے کہوں
    :hmm: :hmm: :hmm: :hmm:

    ReplyDelete
  18. خوب اور درست نقشہ کھینچا ہے ۔ میرے خیال میں تو یہ بھی بڑی معقول وجہیں ہیں خود کش حملہ آور بننے کیں hmmm
    وسلام

    ReplyDelete
  19. آپ کا تبصرہ تو ملا ہی نہیں :|

    ReplyDelete
  20. اچھا اتنا برا حال ہے؟ کچھ چیزوں میں میرے شہر میں آسانی ہے، مگر آجکل پانی کا مسئلہ زوروں پے ہے۔ صبح چھ بجے سے سات بجے تک شکایت ہوگی تو پانی کا ٹینکر آئے گا۔ ورنہ نہیں۔ ہاتھ دکھ جاتا ہے مگر مجال ہے جو نمبر مل جائے۔

    ReplyDelete
  21. "فائٹ کلب" واہ واہ کیا یاد دلا دیا۔
    ایک مرتبہ اور دیکھ کر پھر فلمستان پر تبصرہ کرتا ہوں اس فلم پر۔ یہ فلم تو سمجھنے میں اتنی مشکل ہے، تبصرہ کرنا کتنا مشکل ہوگا اس کا اندازہ مجھے ابھی سے ہو رہا ہے :)

    ReplyDelete
  22. پاکستانیوں کا قول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔






    ہمت ہے تو پاس کر
    ورنہ تو برداشت کر

    ReplyDelete

Post a Comment