LibreOffice 4.2 Essential Training : Unit 1

لبرآفس ایک مکمل مفت اور آزاد مصدر (اوپن سورس) آفس سوٹ ہے۔ یہ ورڈ پروسیسر، اسپریڈشیٹ ٹول، پریزنٹیشن میکر، ڈیٹابیس ٹول اور دیگر اطلاقیوں کا مجموعہ ہے۔ لبرآفس4 بنیادی کورس کا مقصد لبرآفس کی استعداد کا عملی مظاہرہ ہے۔ تو، شروع کرتے ہیں، اُردو میں لبرآفس 4.2 بنیادی کورس، عمار ابنِ ضیا کے ساتھ۔

1.1 : خوش آمدید 




خوش آمدید!
لبرآفس کی بنیادی تربیت کے ساتھ میں ہوں عمار ابنِ ضیا۔
آفس ٹولز جیسے کہ ورڈ پروسیسر، اسپریڈ شیٹ، پریزنٹیشن میکر وغیرہ صرف دفاتر ہی نہیں، عام زندگی میں بھی بے حد مفید و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس بنیادی کورس میں ہم سیکھیں گے کہ کس طرح لبرآفس استعمال کرتے ہوئے مختلف چھوٹی بڑی دستاویزات تیار کی جاسکتی ہیں، کیسے کسی ڈوکیومنٹ کی فارمیٹنگ کرتے ہیں، اسپریڈشیٹ میں کس طرح ڈیٹا انٹری کا کام سرانجام دیا جاسکتا ہے، اسپریڈشیٹ پر کام کرتے ہوئے فارمولے ہمیں کیسے مدد کرتے ہیں اور دفتری یا تعلیمی مقاصد کے لیے پریزنٹیشن کس طرح بنائی جاسکتی ہے۔
تو شروع کرتے ہیں لبرآفس بنیادی کورس۔

1.2 تعارف 



لبرآفس ایک مکمل آفس سوٹ ہے۔ آفس سوٹ سے مراد یہ ہے کہ یہ ایسی ایپلی کیشنز کا مجموعہ ہے جو دفتری ضروریات کی تکمیل میں مدد کرتی ہیں۔ دوسرے آفس سوٹ، مثلاً مائکروسوفٹ آفس سے یہ اس طرح مختلف ہے کہ یہ بالکل مفت اور اوپن سورس ہے؛ یعنی اس کے ہر سوفٹ ویئر کا کوڈ ہر ایک کے لیے دستیاب ہے اور کوئی بھی شخص اس میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں لاسکتا ہے۔ لبرآفس استعمال میں آسان ہے اور اس پر تقریباً ہر وہ کام سرانجام دیا جاسکتا ہے جو دوسرے آفس سوٹ پر ممکن ہو۔
لبرآفس کے مکمل پیکج میں ورڈ پروسیسر، اسپریڈ شیٹ، پریزنٹیشن اور ڈیٹابیس پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ حسابی فارمولے لکھنے، اور ایچ ٹی ایم ایل اور ایکس ایم ایل دستاویزات تیار کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔
لبرآفس کی بنیاد نئی نہیں۔ سنہ 1985ء میں اسٹار ڈویژن نامی ادارے نے اسٹار آفس کے نام سے ایک آفس سوٹ جاری کیا۔یہ مفت نہیں تھا۔ 1999ء میں اسٹار ڈویژن کو سن مائکروسسٹمز نے خرید لیا اور 2000ء میں اسٹارآفس کا سورس کوڈ عام کردیا تاکہ اس کی بنیاد پر مائکروسوفٹ آفس سے مقابلے کے لیے ایک مفت آفس سوٹ اوپن آفس کے نام سے بنایا جائے۔ یوں، اسٹار آفس قیمتاً اور اوپن آفس مفت دستیاب ہوتا رہا۔ جنوری 2010ء میں اوریکل  کارپوریشن نے سن مائکروسسٹمز کو خرید لیا۔ یوں اسٹار آفس اور اوپن آفس بھی اوریکل کے پاس آگیا۔
اپریل 2011ء میں اوریکل نے یہ پروجیکٹ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے آن لائن کمیونٹی کے حوالے کردیا۔ دی ڈوکیومنٹ فاؤنڈیشن کے تحت اوپن آفس کو لبرآفس میں ڈھالا گیا۔ لبرآفس کا پہلا ورژن 25 جنوری 2011ء میں جاری ہوا۔ اب دی ڈوکیومنٹ فاؤنڈیشن ہی لبرآفس کی ڈویلپمنٹ سنبھالتی ہے۔
لبرآفس میں مائکروسوفٹ آفس پر بنائی گئی فائلیں بھی کھولیں جاسکتی ہیں اور لبرآفس کی فائلوں کو مائکروسوفٹ آفس کے فارمیٹ میں محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے۔ لبرآفس ایک کروس پلیٹ فارم اطلاقیہ ہے، یعنی یہ کئی آپریٹنگ سسٹمز، جیسے ونڈوز، میک، اور لینکس کے لیے دستیاب ہے۔

1.3 تنصیب



لبرآفس کے تعارف کے بعد اب ہم اس کی انسٹالیشن یعنی کمپیوٹر پر تنصیب کی جانب بڑھتے ہیں۔ اپنی مرضی کا ویب براؤزر کھولیں اور اُس کے ایڈریس بار میں لکھیں: لبرآفس ڈاٹ آرگ (LibreOffice.org)۔ ویب سائٹ کھلنے پر سامنے ہی موجود ڈاؤن لوڈ ناؤ (Download Now) کے بٹن پر کلک کریں یا پھر اوپر موجود ڈاؤن لوڈ کے منیو میں سے لبرآفس فریش کا انتخاب کریں۔
آپ کے سامنے مین انسٹالر کا صفحہ ظاہر ہوگا۔ یاد رکھیں کہ لبرآفس کا مین انسٹالر آپ کے آپریٹنگ سسٹم کے مطابق خود منتخب ہوجاتا ہے؛ جیساکہ یہاں ونڈوز لکھا ہوا ہے۔ اگر آپ کسی اور آپریٹنگ سسٹم کے لیے لبرآفس ڈاؤن لوڈ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیگر آپریٹنگ سسٹمز کی بھی فہرست موجود ہے۔ لبرآفس کا یہ مین انسٹالر اس کے ورژن 4.2.2 کا ہے، جس کا سائز 210 ایم بی ہے۔ اگر آپ یہی ورژن ڈاؤن لوڈ کرنا چاہ رہے ہیں تو ڈاؤن لوڈ ورژن پر کلک کریں۔
اگلے صفحے پر آپ سے لبرآفس کی انسٹالر کی فائل Save (محفوظ)  کرنے کو پوچھا جائے گا۔ Save File پر کلک کریں۔ لبر آفس مکمل طور پر مفت ہے، تاہم اگر آپ اس پروجیکٹ میں معاونت کے لیے کچھ رقم عطیہ کرنا چاہتے ہیں تو اس صفحے پر یہ سہولت بھی موجود ہے۔
لبرآفس مکمل ڈاؤن لوڈ ہوجانے کے بعد اپنا ڈاؤن لوڈ فولڈر کھولیں اور لبرآفس کا انسٹالر چلائیں۔ ویلکم اسکرین آپ کے سامنے ظاہر ہے۔ Next پر کلک کرکے آگے بڑھیں۔ اگلے صفحے پر آپ سے دو قسم کی انسٹالیشن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کیا آپ Typical انسٹالیشن چاہتے ہیں یا کسٹم انسٹالیشن چاہتے ہیں؟ اگر آپ ٹپیکل انسٹالیشن منتخب کریں گے تو تمام ڈیفالٹ کمپوننٹس انسٹال ہوجائیں گے جس میں آپ کے موجودہ آپریٹنگ سسٹم کی زبان کے مطابق ڈکشنری (لغت) بھی انسٹال ہوگی۔ اگر آپ کسٹم منتخب کریں گے تو آپ کے پاس یہ سہولت موجود ہوگی کہ آپ اپنی مرضی کے پروگرامز اور اپنی مرضی کے فیچرز منتخب کرسکتے ہیں۔ ہم فی الحال ٹپیکل انسٹالیشن منتخب کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
اگلے صفحے پر تین آپشن پوچھے جا رہے ہیں۔ ڈیسک ٹاپ پر اسٹارٹ لنک یعنی ایک شارٹ کٹ تخلیق کرنا جو کہ پہلے سے منتخب ہے؛ جبکہ اگلے دو آپشنز پر چیک نہیں ہے۔ ہم فی الحال ڈیفالٹ سیٹنگز کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ انسٹال پر کلک کریں۔ اس موقع پر ممکن ہے کہ آپ سے ایڈمنسٹریٹو رائٹس (Administrative Rights) کے بارے میں پوچھا جائے۔ اگر ایسا ہو تو Yes پر کلک کرکے آگے بڑھیں۔ لبرآفس کی انسٹالیشن شروع ہوچکی ہے۔
لبرآفس انسٹال ہوچکا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کے ڈیسک ٹاپ پر لبرآفس 4.2 کا شارٹ کٹ موجود ہے۔ مبارک ہو!

1.4 اسٹارٹ اسکرین



لبرآفس چلانے کے لیے اس کے شارٹ کٹ پر دو بار کلک کریں۔ یہ لبرآفس کی اسٹارٹ اسکرین ہے۔ اسٹارٹ اسکرین میں سب سے اوپر منیو بار موجود ہے، جس میں فائل، ٹولز، اور ہیلپ کا منیو موجود ہے۔ منیو کے نیچے سائیڈبار میں اوپن فائل کا ربط ہے۔ اگر آپ کے کمپیوٹر میں پہلے سے کوئی ڈوکیومنٹ فائل موجود ہے تو آپ اسے یہاں سے کھول سکتے ہیں۔ اس کے بعد ٹمپلیٹس کا ربط ہے۔ ٹمپلیٹس ایسے بنے بنائے خاکے ہوتے ہیں جن کی مدد سے آپ فورمیٹنگ کی جھنجھٹ میں پڑے بغیر دستاویزات تیار کرسکتے ہیں۔
اگلے مرحلے پر Create کی ہیڈنگ کے تحت چھ ٹولز موجود ہیں۔ سب سے پہلے رائٹر (Writer) ہے۔یہ ڈوکیومنٹ یعنی دستاویزات تیار کرنے کے کام آتا ہے۔ یہ مائکروسوفٹ آفس ورڈ کا متبادل ہے۔ پھر کیلک (Calc) ہے جو اسپریڈ شیٹ تیار کرنے کا پروگرام ہے۔یہ مائکروسوفٹ ایکسل کا متبادل ہے۔ تیسرے درجے پر امپریس (Impress) ہے جو مائکروسوفٹ پاورپوائنٹ کی طرح پریزنٹیشن بنانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اگلا اطلاقیہ ڈرا (Draw) ہے جو ڈرائنگ بنانے کے کام آتا ہے۔میتھ فارمولا حسابی فارمولے لکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اور سب آخر میں بیس (Base) ہے جو ڈیٹابیس بنانے کا پروگرام ہے اور مائکروسوفٹ آفس ایکسس کا متبادل ہے۔
اگر منیوبار کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے فائل منیو ہے۔ فائل منیو میں سب سے اوپر New کا آپشن ہے جس کے تحت لبرآفس کے کسی بھی ٹول کی نئی فائل بنائی جاسکتی ہے۔ New کے بعد اوپن (Open) کا آپشن ہے جس کے ذریعے آپ پہلے سے موجود کوئی ایسی فائل کھول سکتے ہیں جسے لبرآفس سپورٹ کرتا ہو۔ پھر Recent Documents یعنی حالیہ دستاویزات کا آپشن ہے۔ یہاں آپ کو وہ فائلیں نظر آئیں گی جن پر آپ نے حال ہی میں کام کیا ہوگا۔ ابھی چوں کہ ہم نے کوئی ڈوکیومنٹ  نہیں کھولا ہے اس لیے یہاں No Document لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔اس کے بعد وزارڈ (Wizard) ہے۔ اس بنیادی کورس میں ہمیں Wizard کا آپشن  استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔آخر میں Exit LibreOffice کا آپشن ہے۔ اگر آپ لبرآفس بند کرنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔
فائل منیو کے بعد ٹولز کا منیو ہے۔ اس میں موجود آپشنز کے بارے میں ہم کورس کے دوران پڑھیں گے۔
اگلا منیو ہیلپ (Help) کا ہے جس میں آپ لبرآفس سے متعلق امدادی معلومات اور مواد ملاحظہ کرسکتے ہیں، فیڈبیک بھیج سکتے ہیں، لائسنس کے بارے میں معلومات دیکھ سکتے ہیں، نئے ورژن کی اپڈیٹس چیک کرسکتے ہیں، اور لبرآفس کے بارے میں بنیادی معلومات جان سکتے ہیں۔

وضاحت

میں نے پچھلے دِنوں ایک آن لائن تعلیمی منصوبے کا خیال پیش کیا تھا۔ یہ ٹیوٹوریل اُسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن یہ صرف اور صرف مثال کے طور پر پیش ہے۔ فی الحال میرا ارادہ اسے جاری رکھنے کا نہیں ہے کیوں کہ یہ مجھ اکیلے کے بس کی بات نہیں۔ البتہ مجھے اتنی امید ضرور ہے کہ اس کے بعد کچھ لوگ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے زیادہ بہتر طریقے سوچ سکیں گے۔

Comments

  1. بہت اچھی کوشش ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ دوسروں کا آسرا نہ کریں اور جو کچھ آپ کر سکتے ہیں وہ کریں۔ ایسے منصوبے پر کوئی بھی رضاکارانہ طور پر کام کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ شعیب۔ رضاکارانہ منصوبوں کا حال دیکھنے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسے رضاکارانہ نہیں رکھا جائے بلکہ جو لوگ اس منصوبے پر کام کریں، انھیں کچھ نہ کچھ تعاون ضرور پیش کیا جائے۔

      Delete
  2. زبردست کام کیا ہے جناب

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ عامر۔ دعا کریں کہ اسے جاری رکھنے کا وقت مل سکے۔

      Delete
  3. ایک بہت ہی عمدہ کوشش، پروفیشنل کام کی طرز کا لگ رہا ہے۔ بہت عمدہ

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ یاسر بھائی۔

      Delete
  4. بہت زبردست عمار بھائی۔ مائیکروسافٹ ایکسس میں بنا ہوا ڈیٹا بیس کیا اس میں کھل سکتا ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ۔ جی ہاں، لبرآفس میں مائکروسوفٹ آفس کی مکمل سپورٹ شامل ہے اور ایکسس میں بنی ہوئی فائل لبرآفس بیس میں کھل سکتی ہے۔

      Delete
    2. بہت زبردست عمار بھائی

      Delete

Post a Comment