Thursday, 8 May 2014

انسانی قیامت : تبصرہ

انسانی قیامت [Insani Qayamat]
انسانی قیامت [Insani Qayamat] by Gore Vidal
My rating: 4 of 5 stars

جب انسان مشکلات سے نجات پانے کے تمام حقیقت پسند راستے بندپاتا ہے تو وہ خواب دیکھتا ہے۔ پل بھر میں چمتکار ہونے کے خواب، ہر مشکل اور پریشانی سے نجات پانے کے خواب، اور پھر زندگی کی جھنجھٹ سے آزاد ہونے کے خواب۔
کالکی ہونے کے دعوے دار نے زندگی سے تنگ آئے انسانوں کو یہی خواب دکھایا۔ اس دنیا کے خاتمے کے نتیجے میں ہر اُلجھن سے آزاد ہوکر اگلی دنیا میں بہتر زندگی کا خواب۔ نتیجتاً بے بس انسانوں کی ایک بڑی تعداد اُس کی ہم نوا بن گئی۔ اُس نے دنیا کو بتایا کہ وہی براہما ہے، وہی وشنو ہے اور وہی شیوا ہے۔ وہی پچھلی بار گوتم کے روپ میں آیا تھا اور ’کالکی‘ اُس کا دسواں جنم ہے جو ایک امریکی فوجی جم کیلی کے جسم میں حلول کرگیا ہے۔ اُس نے کہا کہ برائی بڑھ جانے کے باعث دنیا کے اس دور کا خاتمہ قریب آ پہنچا ہے اورلوگ پوتر ہونے اور اگلے جنم میں اچھا جسم پانے کے لیے اُس کا پیغام اپنالیں۔ پھر ہر طرف کنول کے پھول تھے اور اُس کے پیغام کا پرچار کرنے والے۔
تھیوڈور اوٹنگر (ٹیڈی) ایک ہواباز خاتون تھی تاہم حقوقِ نسواں پر اُس کی لکھی کتاب اُس کی اصل شہرت کا سبب تھی۔ پھر اُسے پیغام ملا کہ کالکی اپنی زندگی کا پہلا انٹرویو اُسے دینا چاہتا ہے۔ رقم کی ضرورت کے باعث ٹیڈی کو راضی ہونا ہی پڑا، اگرچہ وہ بے دین تھی۔ لیکن کالکی کا حقیقی مقصد انٹرویو ہرگز نہیں تھا۔ یہ محض ٹیڈی کی زندگی میں تبدیلیوں کا ایک حیرت انگیز بہانہ تھا۔ ایک طرف کالکی کے عقیدت مندوں کی تعداد بڑھ رہی تھی تو دوسری طرف کالکی پر سنگین قسم کے الزام لگ رہے تھے۔ انسدادِ منشیات کے اداروں کو یقین تھا کہ کالکی انٹرپرائزز منشیات فروشی میں بڑے پیمانے پر ملوث ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ’’کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انھیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑسکتے ہیں کبھی؟ وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔‘‘
لیکن یہ بات ہر ایک کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ درحقیقت کالکی (جم کیلی) چاہتا کیا ہے؟ دنیا یقین اور شک کی درمیانی راہ پر کھڑی تھی۔ آخر کالکی نے قیامت کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ اُس کے ماننے والے مکتی پانے کے لیے پرہیزگاری اپنانے لگے تو اُس کے مخالفین اُس کا مذاق اُڑانے لگے کہ بھلا ایک شخص کیسے روئے زمین سے ساری آبادی مٹاسکتا ہے۔ لیکن کالکی کا منصوبہ مذاق نہیں تھا۔ صرف اُن گنتی کے لوگوں نے اُس کے ساتھ زندہ رہنا تھا جنھیں کالکی نے خود منتخب کیا تھا۔
اور پھر وہ آخری دن آگیا۔ خاموشی کا راج! روئے زمین پر صرف پانچ انسان۔۔۔اور کالکی نئے دور کا آدم۔ آدمِ سوم!
ایک دلچسپ اور تھرل سے بھرپور کہانی جس کے انتخاب کی وجہ ایک بار پھر صرف علیم الحق حقی کا نام تھا جنھوں نے اسے اُردو قالب میں بڑی عمدگی سے ڈھالا۔ اُلجھن یہ ہوتی ہے کہ ان کے بیشتر ناولوں میں حوالہ موجود نہیں ہوتا کہ یہ کس کہانی سے ماخوذ ہے۔ اسے ڈھونڈنے کے لیے مجھے تھوڑی محنت کرنی پڑی۔ تجسس بھری کہانیاں پسند کرنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین کہانی ہے۔ یہ انسانی نفسیات، سیاسی گورکھ دھندے، اور نظام کی کم زوریوں کا فائدہ اُٹھاکر عوام کو اپنا دیوانہ کرنے والوں کی داستان ہے۔

View all my reviews

2 comments:

  1. از احمر

    میرے خیال میں تو یہ بہت پرانا ترجمہ ہے، میں اسےشاید 15 سال پہلے پڑھ چکا ہوں
    اس ترجمہ میں علیم الحق حقی صاحب مکہ اور مدینہ کی آبادی کو بچا لیتے ہیں
    اب پتہ نہیں اصل کہانی میں ایسا تھا یا بہیں

    ReplyDelete
    Replies
    1. بالکل۔ حقی صاحب نے انجام ایسا ہی پیش کیا تھا لیکن ظاہر ہے، حقیقی کہانی میں ایسا کہاں ہوگا۔ ترجمہ پرانا ہی ہوگا۔ میرے ہاتھ بس ابھی لگا۔
      تبصرے کا شکریہ۔

      Delete