Being a Father...

مجھے اپنی اولاد سے بے حد محبت ہے۔
یقیناً سبھی والدین کو ہوتی ہے۔
لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کے والدین اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ نجانے کیوں! کیا اس لیے کہ اب والدین اور اولاد کے درمیان تعلق کی نوعیت خاصی تبدیل ہوگئی ہے اور اُس میں دوستی کا عنصر زیادہ شامل ہوگیا ہے، یا واقعی نئی نسل کو اپنی اولاد سے محبت زیادہ ہے۔
ہمارے والدین بننے سے پہلے جو والدین تھے/ہیں، اُن کا اپنی اولاد سے تعلق محبت کے ساتھ ساتھ رعب اور دبدبے کا بھی تھا۔ اُس میں رکھ رکھاؤ تھا، فاصلہ تھا۔ بے تکلفی نہیں تھی۔ اب اس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
والدین اور اولاد کے حوالے سے ایک اور نمایاں تبدیلی بھی مجھے محسوس ہوتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب باپ اپنی اولاد سے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔ اُن سے زیادہ محبت کرنے لگے ہیں۔ اُن کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ اُنھیں زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ میں باپ بننے کے بعد اپنی اولاد کے لیے جو محبت محسوس کر رہا ہوں، اُس کے آگے مجھے اپنے والدین کی محبت اور توجہ کم لگ رہی ہے۔ میں نے کئی رشتے دار اور جان پہچان والے باپوں کے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے نوجوان ماؤں کو طنزاً اپنے شوہروں سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ آپ کو ماں سے زیادہ اولاد کی مامتا ہے۔
کیا واقعی ایسا ہے؟

Comments

  1. جی بالکل ایسا ہی ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. بلاگ پر تشریف لانے اور تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔

      Delete
  2. بالکل مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہے بلکہ ایسا ہونا فطری امر ہے۔ دیکھیں اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکا، کسی بھی وجہ سے، تو اس کی پہلی ترجیح کیا ہوگی کہ اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دلائے۔ وہ اس کے لیے سخت محنت بھی کرے گا اور اس مقصد کو حاصل کرے گا۔ جیسا کہ آپ نے کہا کہ پہلے زمانے میں والدین رعب و دبدبہ قائم رکھتے تھے، تو نہ چاہتے ہوئے ہمارے ذہن میں یہ چیز موجود ہے کہ یہ اچھی چیز نہیں تھی اور ہم یہ چاہیں گے کہ ہماری اولاد کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے، جس کا سابقہ ہمیں تھا۔ ویسے ہوسکتا ہے کہ ہماری اولاد اپنی اولاد کے ساتھ سختی والا رویہ رکھے کہ ہمارے امی ابو نے ہمیں بہت چھوٹ دے رکھی تھی، جس کا ہمیں بہت نقصان ہوا :)

    ReplyDelete
  3. ابوشامل، آپ کی بات سے متفق ہوں۔ واقعی ایسا ممکن ہے کہ ہماری اولاد اس کے برعکس رویہ اختیار کرے۔ یہ دراصل اولاد کی تربیت کے تجربات ہی ہیں۔ ہم سبھی تجربات کرتے ہیں، کیوں کہ اولاد کی تربیت کے طریقے سکھانے والا کوئی موجود نہیں ہے۔ ہم یا تو اس طرح اولاد کی پرورش کرتے ہیں جیسے ہماری کی گئی ہوتی ہے یا اس کے برعکس۔
    مجھے کبھی کبھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ نئے یا مستقبل قریب میں والدین بننے والے جوڑوں کو اولاد کی تربیت کے حوالے سے تربیت دینے اور ورکشاپس کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ اس موضوع پر کئی کتب لکھی گئی ہیں لیکن ہمارے ہاں مطالعے کا رجحان تو رہا ہی نہیں ہے۔

    ReplyDelete
  4. میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں

    ReplyDelete

Post a Comment