Review: Yalghaar


عید کے ایام مختلف لوگوں کے لیے مختلف قسم کی مصروفیات لاتے ہیں۔ تاہم بیشتر شادی شدہ افراد کی زندگیاں میکے اور سسرال میں میزبانیاں کرتے یا مہمانیاں اٹھاتے گزرتی ہیں۔ عید کے پہلے دن، شام میں سسرال میں دعوت تھی جہاں حسبِ معمول سسرالی رشتے داروں کی یلغار ہونی تھی۔ اس یلغار کو کچھ وقت ٹالنے اور وقت گزاری کے لیے میں نے کیپری سنیما کا رخ کیا۔ وہاں جاکر علم ہوا کہ میرے حصے میں فلم بھی ’’یلغار‘‘ ہی آئی ہے۔ اکیلے ہونے کے باعث سنیما کے روایتی ذائقوں کا خوب لطف اٹھایا۔ دروازے پر کھڑے ہوکر اس کے کھلنے کا انتظار کیا، طویل قطار میں لگ کر ٹکٹ لیا، سنیما کے باہر سے بیس روپے والا گھٹیا لال شربت پیا، چالیس روپے کا بکواس بن کباب کھایا، پسینے سے شرابور ہونے کے بعد پنکھوں کے نیچے کھڑے ہوکر پسینہ سکھانے کی ناکام کوشش کی۔ تب جاکر رات نو بجے والےشو کی باری آئی۔
فلم ’’وار‘‘ کے فلمسازوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اس فلم کا ایک عرصے سے انتظار تھا۔ امید تھی کہ پہلی فلم میں موجود خامیوں پر اس بار قابو پایا جائے گا، لیکن خاصی مایوسی کا سامنا ہوا۔ فلم کے ابتدائی مناظر ایک فوجی کرنل (ایوب کھوسو) کو دہشت گردوں کے چنگل سے چھڑانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے ہیں۔ یہ مناظر ہیجان خیز ہیں اور عمدہ فلمائے گئے ہیں۔ لیکن اتنی ہیجان خیزی سے شروع ہونے والی فلم اگلے مناظر میں اپنا ٹیمپو کھو دیتی ہے۔ فوج اور دہشت گردوں کے مابین معرکوں کے مناظر کے علاوہ، پوری فلم میں ایسا لگتا تھا کہ فوجیوں اور دہشت گردوں کو لڑکیاں پٹانے یا ان کے پیچھے بھاگنے کے سوا کوئی کام ہی نہیں تھا۔ یعنی نصابی سرگرمیوں (curricular activities) کی بجائے غیر نصابی سرگرمیوں (extra-curricular activities) پر زیادہ فوکس رہا۔ دہشت گرد نوجوانوں کو کیسے ورغلاکر اپنا آلہ کار بناتے ہیں، فوج کو ان سے لڑنے کے لیے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر فلم میں یہ پہلو بھی شامل کیے جاتے تو کہانی دلچسپ ہوسکتی تھی۔
ہمایوں سعید نے پہلی بار مرکزی ولن (villain) کا کردار نبھایا۔  ’بڑا شور سنتے تھے‘ اس کردار کا، لیکن وہ اس کردار میں بالکل نہیں جچے۔ ان کے پاس وہ آواز، رعب اور دبدبہ ہی نہیں جو اس قسم کے کرداروں کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ صرف لمبے بال رکھ لینے سے ولن کے تاثرات نہیں آسکتے۔
فلم ’وار‘ کی طرح، ’یلغار‘ میں بھی انگریزی مکالموں کی بھرمار ہے۔ مانا کہ فوج میں انگریزی میں گفتگو ہوا کرتی ہوگی، لیکن کیا ضروری ہے کہ فلم میں بھی انھیں انگریزی ہی بولتا دکھایا جائے جبکہ فلمساز یقیناً جانتے ہوں گے کہ ناظرین کی بڑی تعداد انگریزی سے نابلد ہوتی ہے۔ فلم کے ابتدائی مکالموں میں تو انگریزی اتنی زیادہ تھی کہ میرے برابر میں بیٹھا شخص مجھ سے پوچھنے لگا کہ بھائی، کیا فلم انگریزی میں ہے؟ فلم کے کئی مناظر غیر ضروری محسوس ہوئے، یا ان پر فلم سے زیادہ ڈراموں کا گمان ہوا۔ ’وار‘، ’مالک‘ اور اب ’یلغار‘، تینوں فلموں  میں فوجیوں کی باڈی لینگویج پر کام کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ ان کی حرکات و سکنات سے ان کی باڈی لینگویج کہیں سے فوجیوں والی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ جن مناظر میں شان کا کلوزاپ لیا گیا ہے، ان میں شان کے دانت ایسے نظر آئے جیسے وہ بھی پان گٹکا کھاتے ہوں۔ جن مناظر میں عائشہ عمر کا کلوزاپ ہے، وہاں ان کے دانت پیلے محسوس ہوتے ہیں۔ چھوٹی اسکرین پر ان باتوں کو معمولی قرار دے کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے، لیکن بڑی اسکرین پر معمولی سی چیز بھی بہت واضح نظر آتی ہے۔ چنانچہ یہ معمولی چیزیں بھی اہم ہوجاتی ہیں۔ جب ہمایوں سعید، عائشہ عمر کو شادی کی تقریب سے اغوا کرکے لاتا ہے اور اپنے کمرے (حجرے؟) میں چارپائی پر ڈالتا ہے تو ان مناظر میں عائشہ کا رونا بالکل متاثرکن نہیں تھا۔حتیٰ کہ کیمرے نے بھی ایسے موقع پر عائشہ کو فوکس کیا جب اسے نہیں کرنا چاہیے تھا، مثلاً رونے کے دوران عائشہ کے منھ سے رال ٹپکتی ہے۔ کیا تین سیکنڈ کا یہ منظر حذف نہیں کیا جاسکتا تھا؟
اب بات کرتے ہیں فلم کے ساؤنڈ ورک کی۔ ایک بات بتائیے، بیک گراؤنڈ اسکور یا بیک گراؤنڈ میوزک (پس پردہ موسیقی) سے آپ کی سمجھ میں کیا بات آتی ہے؟ یہی نا کہ وہ میوزک پس منظر میں ہونا چاہیے ۔ لیکن ’یلغار‘ میں کئی مقامات پر میوزک تیز اور مکالمے پس منظر میں چلے گئے ہیں کہ ان کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ نیز بیشتر مکالمے اتنے غیر واضح اور مبہم سنائی دیے کہ سنیما میں بیٹھی عوام شور مچانے لگی کہ آواز تیز کی جائے جو شاید ناممکن تھا کیونکہ بعض جگہوں پر آواز بالکل واضح سنائی دے رہی تھی۔ حتیٰ کہ فلم کے گیتوں کے بول بھی سمجھ نہیں آسکے۔
ایک احمق شخص بھی آدھی فلم دیکھ کر بتاسکتا ہے کہ اسے بینک الفلاح نے اسپانسر کیا ہے۔ بینک الفلاح کے کریڈٹ کارڈ کو کئی مناظر میں بہت نمایاں کیا گیا ہے۔ ٹھیک ہے کہ فلمیں بنانے کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور سرمائے کے لیے اسپانسرز کی، لیکن بیشتر پاکستانی فلموں میں اسپانسرز کو خاصے بھونڈے طریقے سے جگہ دی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم فلم نہیں، ان مصنوعات کا اشتہار دیکھ رہے ہیں۔
غرض، قصہ مختصر یہ کہ اسکرین پلے، ہدایت کاری، اور اداکاری میں بہتری کی بہت گنجائش محسوس ہوئی۔ کہانی اتنی بوریت بھری تھی کہ انٹرویل تک فلم ادھوری چھوڑ کر اٹھ جانے کا دل کر رہا تھا۔ انٹرویل پر تو نہیں اٹھا، لیکن اس کے کچھ دیر بعد تنگ آکر فلم ادھوری چھوڑ کر سسرالی رشتے داروں کا رخ کرنے کو ترجیح دی۔

آپ چاہیں تو اشتہار دیکھ لیں:


Comments

  1. بامقصد فلموں میں مقصد کٹ کٹ کر بھرا ہوتا ہے مووی کم ہوتی ہے ۔۔
    یہ موویز ڈرامے ہی ہوتے ہیں غالباً بنائے بھی ڈراموں کی ٹیکنیک سے ہیں ۔۔
    بی بی عائشہ عمر کو تو ٹی وی پر مکالموں کی ادائیگی نہیں آتی ۔ ۔ وہ ہر کردار میں بلبلے والے کردار میں ہی رہتی ہیں

    ReplyDelete
  2. بیک گراؤنڈ میوزک تو اب ٹی وی پروگرامز میں بھی بہت لاؤڈ ہونے لگا ہے

    ReplyDelete

Post a Comment