Review: Dexter (Season 1)


میں ان دنوں جن انگریزی ٹی وی سیریز سے لطف اندوز ہو رہا تھا، ان میں ’دی بلیک لسٹ‘ اور ’ڈیزگنیٹڈ سروائیور‘ وہ دو سیریز ہیں جو ابھی ٹی وی پر نشر ہو رہی تھیں، اور گزشتہ ہفتے ان دونوں ہی کا رواں سیزن اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ سیزن ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب چند مہینوں یا سال بھر کے لیے چھٹی، اور وہ بھی تب جب اگلے سیزن کی گنجائش یا ضرورت ہو، ورنہ تو مستقل ہی خیرباد کہنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے میں ساتھ ہی ایسی کوئی سیریز بھی جاری رکھتا ہوں جو پرانی ہو اور اس کے کئی سیزن نشر ہوچکے ہوں۔ یوں آپ کے پاس ڈھیروں (بیسیوں/ سیکڑوں) اقساط کی صورت میں مستقل کچھ نہ کچھ دیکھنے کو موجود رہتا ہے۔ چنانچہ ان دنوں، جو پرانی سیریز میں دیکھ رہا ہوں، وہ ہے ’’ڈیکسٹر‘‘۔
ڈیکسٹر کے پہلے سیزن کا پریمئر یکم اکتوبر 2006ء کو ہوا تھا اور اس کا آٹھواں (اور آخری) سیزن 22 ستمبر 2013ء کو انجام تک پہنچا۔ سات سال کے دورانیے میں اس کی 96 اقساط نشر ہوئیں، اور ہر قسط تقریباً پون سے ایک گھنٹے پر مشتمل ہے۔ میں چونکہ ابھی دوسرے سیزن پر ہوں، اس لیے میرے پاس ابھی دیکھنے کو بہت کچھ باقی ہے۔
کہانی  کا مرکزی کردار ڈیکسٹر مورگن ہے جسے مائیکل سی ہال نے نبھایا ہے۔ سچ کہوں تو شروع میں مجھے ہال کچھ خاص پسند نہیں آئے لیکن پھر ان کے چہرے کے تاثرات، دیکھنے کا انداز اور عمدہ اداکاری نے خوب لطف دیا۔
یہ ڈیکسٹر مورگن نامی ایک شخص کی کہانی ہے جو میامی پولیس میں بطور بلڈ اینالسٹ (خون کا تجزیہ کرنے والے) کے طور پر ملازمت کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ ایک پُر اسرار اور خفیہ زندگی بھی جی رہا ہے: بطور سیریل کلر۔ جہاں وہ دن میں دوسرے قاتلوں کو پکڑنے میں مدد کرتا ہے، وہیں رات میں وہ خود قاتل بن جاتا ہے۔ لیکن اس کے قاتل بننے کے پیچھے ایک پوری داستان ہے جو پہلے سیزن میں وقتاً فوقتاً بیان کی گئی ہے۔ نہایت کم عمری میں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کو قتل کیا گیا ہوتا ہے اور اس نے کئی دن خون میں لت پت اپنی ماں کی لاش کے ساتھ گزارے ہوتے ہیں۔ جائے وقوع پر پہنچنے والا پہلا پولیس افسر،  ہیری مورگن اس  لڑکے کی معصومیت دیکھ کر اسے گود لے لیتا ہے اور اپنے بیٹے کی طرح پالتا ہے۔ تاہم جوں جوں وقت گزرتا ہے، اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس لڑکے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ ہیری اس سے بات چیت کرکے جان جاتا ہے کہ ڈیکسٹر میں قتل کرنے کی خواہش ابھرتی ہے اور یہ طلب اتنی شدید ہے کہ اسے دبایا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ پولیس افسر ہونے کے ناتے وہ اسے تربیت دیتا ہے کہ ایسا قتل کیسے کیا جائے جس کا کوئی سراغ نہ رہے۔ ساتھ ہی ہیری اس کے دل میں کچھ اصول پختہ کرتا ہے، جسے ڈیکسٹر ’’ضابطہ ہیری‘‘ (کوڈ آف ہیری) کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ان اصولوں میں جہاں محفوظ قتل کے طریقے ہوتے ہیں، وہیں اخلاقی ضابطے بھی ہوتے ہیں کہ کبھی کسی بے قصور یا معصوم شخص کو قتل نہیں کرنا ورنہ زندگی بھر اس کا پچھتاوا ساتھ رہے گا۔ چنانچہ ڈیکسٹر کا نشانہ ہمیشہ قاتل ہوتے ہیں۔ وہ صرف انھی لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جن کے قاتل ہونے کے پختہ ثبوت اس کے پاس موجود ہوتے ہیں۔
ڈرامے کی کہانی دلچسپ طریقے سے آگے بڑھتی ہے اور میامی پولیس ایک نئے سیریل کلر کا تعاقب شروع کرتی ہے، دوسری طرف انھی کے درمیان ایک سیریل کلر موجود رہتا ہے۔ ڈرامے میں تھرل تو ہے ہی، لیکن ہیری کا بطور باپ ڈیکسٹر سے جو رشتہ دکھایا گیا ہے، اور جس طرح ہیری اپنے لے پالک بیٹے کی انتہائی منفی فطرت کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بھی سبق آموز ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان اگر دوستی کا تعلق قائم ہو اور والدین اپنے بچوں کے اتنا قریب ہوں کہ ان کی ضرورت اور فطرت سے واقف ہوسکیں تو وہ اپنی توجہ سے ان میں بہت سی تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔
ڈرامے کے پہلے سیزن میں میامی پولیس ایک سیریل کلر کی تلاش میں ہے جسے آئس ٹرک کلر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ قاتل، عورتوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے جسم سے خون نکال لیتا ہے اور پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کرکے کسی مقام پر پولیس کے لیے رکھ دیتا ہے۔ دوسری طرف ڈیکسٹر کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قاتل کا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور وہ کبھی اسے چیلنج دے رہا ہے اور کبھی اس کے بھولے ہوئے ماضی کی یادیں تازہ کر رہا ہے۔ اور آخر اس پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ قاتل دراصل کون تھا اور ڈیکسٹر کے ساتھ اس کا کیا تعلق تھا۔
اب ڈراما چونکہ قاتلوں سے متعلق ہے تو اس میں قتل اور خون کے مناظر بھی ہیں، اور بعض جگہ جنسی یا کچھ حد تک برہنگی کے مناظر بھی۔ لیکن اگر آپ ڈراما دیکھ رہے ہوں تو آپ پر کہانی کی گرفت اتنی مضبوط ہوجاتی ہے کہ آپ بے اختیار ان مناظر کو آگے بڑھاکر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پھر کیا ہوا۔
تو پھر کیا ہوا، اس کے لیے آپ کو ڈیکسٹر ہی دیکھنا ہوگا۔

Comments

Post a Comment